کراچی میں عسکریت پسندوں کا حملہ، 4 رینجرز اہلکار جان سے گئے: پولیس

ایک سینیئر پولیس اہلکار کے مطابق کراچی میں ہفتے کو عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کی جانب سے پیراملٹری تنصیب پر حملے کے بعد رینجرز کے چار اہلکار جان سے گئے جب کہ جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور مارے گئے اور ایک کو زخمی حالت میں پکڑ لیا گیا۔

حملہ اس وقت شروع ہوا جب عمارت میں گھسنے سے قبل حملہ آوروں نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے زیر انتظام تنصیب کی بیرونی رکاوٹ سے ایک گاڑی ٹکرا دی۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک عسکریت پسند دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی ہے، جو حالیہ برسوں میں زیادہ تر شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں سرگرم رہا ہے، اور شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے فون پر عرب نیوز کو بتایا کہ ’دہشت گرد حملے میں رینجرز کے کم از کم چار اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ پانچ دہشت گردوں کو بھی مار دیا گیا ہے اور چھٹا دہشت گرد، جو خودکش حملہ آور تھا، کی لاش بھی مل گئی ہے۔‘

دریں اثنا ایک اور ذریعے نے بتایا کہ ’ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل پولیس حکام نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے دستی بم پھینکنے سے پہلے اپنی گاڑی رینجرز کی عمارت کی بیرونی رکاوٹ سے ٹکرا دی۔

دھماکے کے بعد فائرنگ کی اطلاعات موصول ہونے پر پولیس اور امدادی کارکن فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔

حکام نے واقعے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پولیس کو علاقے کا محاصرہ کیے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حملے کی اطلاع ملتے ہی صوبائی پولیس سربراہ اور کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں گذشتہ برسوں کے دوران عسکریت پسندوں کے متعدد حملے دیکھے گئے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور چینی مفادات کو نشانہ بنانے والے حملے شامل ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور علیحدگی پسند بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے عسکریت پسند گروہ اس سے قبل بھی شہر میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔

حکام نے ابھی تک ہفتے کے حملے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا جو گذشتہ کئی برسوں میں کراچی میں ٹی ٹی پی کے کسی دھڑے کی جانب سے قبول کیا جانے والا پہلا حملہ ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *