پاکستان سپر لیگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے اور اب ہم صرف فائنل سے صرف ایک دن دور ہیں۔
اس ایڈیشن میں جہاں کئی پرانے ناموں نے اپنی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہیں چند نسبتاً نئے کھلاڑی بھی تجربہ کار کھلاڑیوں کی اس لیگ میں اپنا ٹیلنٹ جم کر دکھاتے نظر آئے۔
سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں سمیر منهاس کا، جو اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کھیل رہے تھے۔
صرف 19 سال کی عمر میں انہوں نے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز سکور کیے۔ یہی نہیں، ایشیا کپ کے فائنل میں انہوں نے صرف 42 گیندوں پر سنچری بنا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ انہیں خاص بناتی ہے۔
انہیں رواں سیزن کے لیے تقریباً دو کروڑ روپے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے اس سیزن میں 10 میچز میں 155 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ 349 رنز بنائے۔
اور پھر بات کرتے ہیں فرحان یوسف کی، جو پشاور زلمی کے مڈل آرڈر کو مضبوط بناتے ہیں۔ سابق انڈر 19 کپتان ہونے کے ناطے ان میں قیادت کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
رواں پی ایس ایل میں ان کا سٹرائیک ریٹ 151 رہا ہے جو آگے جا کر مزید بڑھ بھی سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شامل حسین روان سیزن کے نو میچز میں 146 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ 215 رنز بنا سکے، پہلے سیزن میں ان کی یہ کارکردگی شائقین کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہے اور امید ہے کہ ان کی جانب سے بہتر سٹرائیک ریٹ کے ساتھ ساتھ ایوریج بہتر کرنے کا سلسلہ بھی دیکھنے کو ملے گا۔
پاکستان کی انٹرنیشنل ٹیم میں شمولیت، پھر باہر بیٹھنے اور سلیکٹرز کی جانب سے نظر انداز کیے جانے والے سفیان مقیم بھی اس ایڈیشن میں کچھ الگ ہی رنگ میں نظر آ رہے ہیں۔ وہ اب تک دس میچز کھیل کر 21 وکٹیں اپنے نام کر چکے ہیں اور ابھی فائنل باقی ہے۔
آخر میں بات کریں گے حنین شاہ کی جنہوں نے اس ایڈیشن میں اپنی نپی تلی بولنگ سے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا ہے اور خاص طور پر گذشتہ رات کے ایلیمنیٹر میں آخری اوور میں چھ رنز کو ڈیفنڈ کر کے اپنی ٹیم کی فائنل تک رسائی کو یقینی بنایا۔ رواں سیزن میں بھی وہ نو میچز میں 16 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
دیکھتے ہیں فائنل میں حنین شاہ کیا اسی کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں یا نہیں۔
