جماعت اسلامی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج

جماعت اسلامی کی کال پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پشاور، اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ اور کراچی سمیت  ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور شاہراہیں بند کی گئیں۔

پشاور سے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائدے اظہار اللہ کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنان نے پشاور اسلام آباد موٹروے کو پشاور ٹول پلازے کے قریب بند کرکے وہاں دھرنا دیا۔

اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن کے کارکنان نے سوات ایکسپریس وے کو چکدرہ ٹول پلازے کے قریب بند کیا تھا اور صرف ایمبولینس گاڑیوں کو جانے کی اجازت تھی۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع لکی مروت، کرک، بنوں اور دیگر اضلاع میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے مرکزی شاہراہ انڈس ہائی وے کو مختلف مقامات پر بند کیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

جماعت اسلامی خیبر پختونخوا(وسطی) کے رہنما عبدالواسع نے پشاورموٹروے ٹول پلازے پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم لیوی کے نام پر غریب عوام کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی اور اس میں اضافہ کو ہم نہیں مانتے اور حکومت آئی ایم ایف کی غلامی چھوڑ کر عام غریب عوام کی فکر کریں۔

عبدالواسع نے بتایا: ‘ملک میں غریب بائکیا والا، ٹیکسی والوں اور رکشے والوں سے پیٹرولیم لیوی کے نام سے اربوں وصول کرتے ہیں اور یہ وہ طبقہ ہے جو ٹیکس نیٹ میں بھی نہیں آتا لیکن ان سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔‘

کراچی میں جماعت اسلامی کے احتجاج کے موقع پر شہر بھر میں پولیس ہائی الرٹ پر رہی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کے مختلف مقامات پر جماعت اسلامی کے کارکنان احتجاج میں شرکت کے لیے جمع ہوئے۔

دوسری جانب کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کراچی پولیس نے شہر بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔ اہم شاہراہوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔

پولیس حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے، ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

شہر بھر میں پولیس کی اضافی نفری گشت بھی کر رہی ہے اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

لاہور اور کوئٹہ میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور سٹرکیں بلاک کیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *