مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، اس میں دیگر ملک شامل ہو سکتے ہیں: پاکستان

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو واضع کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس میں دیگر ملک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

تینوں ملکوں نے جمعے کو مکہ میں اس اہم معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

سفارتی حلقے اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی طے پانے والے دفاعی معاہدے کی توسیع قرار دے رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے آج ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا معاہدہ ’تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’معاہدہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد امن و سلامتی سے متعلق مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔‘

انہوں نے واضع کیا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے درمیان، یا ان کے دیگر ممالک یا تنظیموں کے ساتھ، موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔

’تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر کسی بیرونی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے مطابقت رکھتا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق ’مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔

’اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ وسیع تر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہماری جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ خطے کے کسی بھی ایسے ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادگی رکھتا ہو۔

’مکہ معاہدہ ہماری خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ 

’پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ 

’ہم تمام تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور اپنی عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

مکہ معاہدے کے بارے میں گذشتہ روز ترک وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ یہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے دفاعی معاہدے جیسا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ سعودی عرب میں ایک جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔

نیٹو کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق آرٹیکل 5 کے تحت رکن ممالک اس اصول کے پابند ہیں کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

نیٹو کے مطابق ایسی صورت میں ہر رکن ملک متاثرہ ملک کی مدد کے لیے ضروری اقدام کرے گا، جس میں مسلح طاقت کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ویب سائٹ پر مزید بتایا گیا کہ یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ 11 ستمبر، 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔

تاہم اس شق کے تحت ہر رکن ملک کی ردعمل کی نوعیت پہلے سے طے شدہ نہیں، ہر ملک یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ متاثرہ اتحادی کی مدد کے لیے کیا اقدام ضروری سمجھتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *