اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے مکمل اور حقیقی طور پر غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کا حساس معاملہ اکتوبر 2025 سے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان نافذ جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 جولائی کو حماس کو ’مکمل طور پر غیر مسلح‘ کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا اور اسے غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا تھا جبکہ فلسطینی تنظیم نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نتن یاہو نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک حماس کو ’حقیقی طور پر‘غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔ آئی ڈی ایف اس وقت تک کسی قسم کی پسپائی نہیں کرے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا، اور ہماری افواج اور ہمارے شہریوں کو لاحق خطرات کو ناکام بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔‘
منصوبہ ہے کیا؟
امریکی صدر نے جولائی میں ٹروتھ سوشل پر معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا: ’آج بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا ایک تاریخی معاہدہ طے کیا ہے۔ یہ دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک غیر معمولی قدم ہے۔‘
مریکی صدر کے مطابق حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا: ’جیسے جیسے غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج واپس ہٹیں گی اور بین الاقوامی استحکام فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔‘
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا عزم
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ وہ طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بن یامین نے کابینہ کے اجلاس میں کہا، ’میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں: معاہدہ ہو یا معاہدہ نہ ہو، جب تک میں وزیراعظم ہوں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔‘
