پنجاب حکومت نے اتوار کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے 2023 کے آخر میں ’غیر قانونی تارکین وطن‘ (جن میں زیادہ تر افغان شہری ہیں) کے خلاف ملک گیر ڈیپورٹیشن مہم شروع کرنے کے بعد سے اب تک تقریباً 27 لاکھ افغان باشندے اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ’اب تک مجموعی طور پر 2,689,295 افغان باشندوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جا چکا ہے۔‘
بیان کے مطابق صرف پنجاب سے 140,468 بلا دستاویز افغانوں کو واپس بھیجا گیا۔
محکمے کے مطابق وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت بغیر درست ویزے کے تمام افغان شہریوں کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تصور کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکام صوبے بھر کے رہائشی علاقوں اور مارکیٹوں میں چیکنگ کر رہے ہیں اور بلا دستاویز افغانوں کو حراست میں لے کر ہولڈنگ سینٹرز پہنچایا جا رہا ہے تاکہ انہیں واپس ان کے وطن روانہ کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق ’اس وقت پنجاب میں 39 ہولڈنگ سینٹرز فعال ہیں جن میں 188 افغان شہری موجود ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہولڈنگ سینٹرز میں بلا دستاویز افغان شہریوں کی عارضی رہائش، رجسٹریشن اور ان کی واپسی کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘
پاکستان نے اکتوبر 2023 میں ’غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے‘ کا اعلان کیا تھا، جس میں بلا دستاویز غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے یا ڈیپورٹیشن کا سامنا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
مہم کو اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس نے رجسٹرڈ افغانوں کی گرفتاریوں اور اخراج کی نشاندہی کی اور ان لوگوں کی زبردستی واپسی کے خلاف خبردار کیا ہے جنہیں افغانستان میں خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پنجاب انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس کا فورن نیشنل سیکورٹی سیل صوبے بھر میں کارروائیوں کی نگرانی اور رابطہ کاری کر رہا ہے اور اس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا دستاویز افغان شہریوں، شناختی فراڈ یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع پولیس کو دیں۔
