ویسے بھی انڈیا کی شدید گرمیوں میں ہر گلی، کوچے یا گھروں میں کاکروچوں یا لال بیگ کی بھر مار ہوتی ہے اور انہیں مارنے کی دوائی ہمیشہ ہاتھوں میں رہتی ہے لیکن ’سیاسی لال بیگ‘ کی آمد سے انڈیا کے سیاسی منظر نامے میں جو ہلچل دیکھی گئی ہے، وہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھی اور انہیں ختم کرنا شاید ممکن بھی نہیں ہوگا۔
ایسے حالات میں جب تحریر و تقریر پر ہر طرف سے سرکاری پہرے بٹھا دیئے گئے ہوں، کسی کا سر اٹھا کے چلنا یا چلینج کرنا واقعی جان جوکھوں والا کام ہے اور جو انڈیا کی جنریشن زی نے چند ہفتوں سے کر کے دکھایا ہے۔
دہلی کے بزرگ شہری انل کمار کہتے ہیں کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کے مدمقابل بھارتیہ کاکروچ پارٹی کا وجود میں آنا ہر کسی کے لیے امید کی ایک نئی کرن لے کے آئی ہے کیونکہ ملک میں اپوزیشن، میڈیا، عدلیہ اور سول سوسائٹی کا قافیہ اتنا تنگ ہوگیا ہے کہ کسی میں بی جے پی سے ٹکراؤ لینے کی ہمت باقی نہیں رہی ہے۔
’اپوزیشن کو توڑنا، کارکنوں کو ورغلانا اور پھر کرپشن کے معاملات میں پھنسا کر جیلوں میں ڈالنا اب معمول بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں جیلوں سے بچنے کے لیے بعض سرکردہ کارکن بی جے پی میں پناہ لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔‘
اپوزیشن کے جنازے میں آخری کیل اس وقت ٹھونک دی گئی، جب مغربی بنگال میں شیرنی کہلانی والی ممتا بینرجی سے سرکاری تخت چھینا گیا اور بہت ہی بری طرح سے شکست دی گئی۔ اس انتخابی دنگل نے تو بیشتر اداروں کے ساتھ انتخابی کمیشن کی غیر جانبداری پر کئی سوالات اٹھائے۔
چند ہفتے پہلے جب عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے ایک کیس کی سنوائی کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ یا کیڑے مکوڑے کہتے ہوئے برہمی ظاہر کی تو امریکہ میں زیر تعلیم ابھجیت دپکے نے کاکروچ پارٹی کے نام سے سوشل میڈیا پر تحریک شروع کردی۔ اس تحریک میں ایک ہفتے میں دو کروڑ سے زائد نوجوانوں نے اپنی دلچسپی دکھائی جو بی جے پی کے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا۔
انڈیا کے کروڑوں نوجوانوں نے شرکت کر کے امتحانات کے پرچے لیک ہونے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور وزیر تعلیم دھرمیش پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
مبصرین نے رائے دی کہ بی جے پی کی سرکار کے خلاف کافی عرصے سے اندر سے شدید لاوا پک رہا ہے جو کاکروچ پارٹی کی تشکیل کی صورت میں پھٹنے لگا ہے اور جس میں سب سے زیادہ ملک کا نوجوان غصے اور بے یقینی میں جوجھ رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
24 لاکھ طلبہ میڈیکل میں داخلہ لینے کے لیے امتحان میں شرکت ہی کرنے والے تھے کہ ’نیٹ‘ کہلانے والے پرچے لیک ہوگئے۔ امتحان ملتوی ہوگیا اور چھ سے زائد طلبہ نے خودکشی کرکے اپنی جان لے لی۔ طلبہ اور ان کے والدین نے شدید برہمی کا اظہار کیا لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
ایک جانب جاسوسی اداروں اور سرکار کاکروچووں کو ملک دشمن بتا کر ان کے سوشل میڈیا اکاونٹس بند کر دیے گئے، دوسری جانب اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے قریب آکر ان کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی۔
کاکروچ نوجوان بغیر خوف کے نئے اکاونٹ بناتے رہے، اپنا ایجنڈا مشتہر کرتے رہے اور ساتھ ہی پارٹی قائد نے انڈیا آکر جنتر منتر کے مقام پر مظاہرہ کرنے کا منصوبہ رکھا۔
گوکہ جنتر منتر پر زیادہ بھیڑ نظر نہیں آئی لیکن اس پارٹی کی تشکیل اور مظاہرے سے ایک نیا منظر نامہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جو سارے ملک میں پھیلتا جا رہا ہے۔ بقول پارٹی لیڈر ’بی جے پی‘ نے 12 سال سے ہندو مسلم کے بیانیے میں ملک کو لٹکا دیا ہے جبکہ بنیادی مسائل کی نشاندہی ملک دشمنی سے تعبیر کی جاتی ہے۔ عوام کو اس کا سحر توڑنا ہوگا۔‘
کاکروچ پارٹی سے دو باتیں سامنے آئی ہیں۔
ایک یہ کہ جو بی جی پی کی جانب سے عوام پر سخت خوف مسلط کیا گیا ہے، وہ بھرم کسی حد تک ٹوٹ گیا اور 65 فیصد نوجوانوں کی آبادی کو اپنے حقوق کے حصول سے روکنے کی کسی میں شاید ہمت نہیں ہے، پھر جب بیشتر معروف شخصیات نے کاکروچوں کی حمایت کا اعلان کر دیا تو تعلیمی اداروں کے اساتذہ، سماجی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلبہ، بچوں اور عورتوں نے باہر آکر اپنی حمایت کا کھل کر مظاہرہ کیا۔
دوسرا یہ کہ بی جے پی نے ہندو مسلم کی سیاست کر کے اپوزیشن، میڈیا اور عوامی حلقوں کو جو ایک مخصوص ایجنڈا دیا ہے۔ کاکروچوں نے اس کو یکسر مسترد کرکے عوامی مسائل کو مظاہروں کا محور بنا دیا جس میں طلبہ کے امتحانات، روزگار اور ان کا مستقبل سرفہرست ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی کے مخصوص نعروں کی بجائے عوامی مسائل مرکزی دھارے کے میڈیا کی بحث کا حصہ بن رہے ہیں۔
ابھی تک نوجوانوں نے اپنی تحریک کو امتحانات کے صاف شفاف ماحول میں منعقد کروانے، روزگار دینے اور تعلیمی اداروں کی غیر جانبدار کارکردگی تک محدود رکھا ہے لیکن معاشرے کے دوسرے طبقوں کے جڑنے سے عوام کے اقتصادی اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔
اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کاکروچوں کو باضابطہ طور پر سیاسی باگ ڈور سنبھالنی ہوگی جو سری لنکا، بنگلہ دیش یا نیپال کے طرز پر سیاسی انقلاب لانے سے ہی ممکن ہے مگر کاکروچ پارٹی نے بندشوں اور دھونس دباؤ کی سرکاری پالیسی کے ہوتے ہوئے پھونک پھونک کو قدم رکھنے کی راج نیتی اپنائی ہے گوکہ آخری ہدف پارلیمان ہی ہے۔
ایک سروے کے مطابق انڈیا میں تقریبا آٹھ کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں جن میں 40 فیصد کے پاس اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ہیں۔ بی جے پی کی حکومت نے سالانہ دو کروڑ کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس پر پورا نہیں اتری، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ جنگوں کے پیش نظر بیرونی ملکوں میں بیشتر انڈین ملازم وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔
کاکروچ پارٹی میں کروڑوں نوجوانوں کی شرکت اور عوامی ردعمل سے بظاہر لگ رہا ہے کہ یہ تحریک اسی سیاسی انقلاب کی جانب لے جا رہی ہے، جس کے مناظر ہم نے پڑوسی ملکوں میں دیکھے ہیں لیکن بی جے پی کے پاس بڑے سرپرائزز ہوتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ نوجوانوں کو بہلانے کے لیے اس نے کوئی گُڈا تیار رکھا ہوگا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
