وزیر داخلہ کا دورہ ایران امن کی کوششوں کے لیے تھا: پاکستان

پاکستانی دفتر خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ ایران بنیادی طور پر امن کی کوششوں کے تناظر میں تھا۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی منگل کو تہران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔  ان کا یہ دورہ امریکہ اور ایران میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہوا، جس میں پاکستان بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے۔

بدھ کو دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں ایران امریکہ مذاکرات کے سلسلہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ ایران سے متعلق کہا: ’میں یہ نہیں بتا رہا کہ پیغام میں کیا کہا گیا تھا، لیکن بنیادی طور پر یہ امن کی کوششوں کے تناظر میں تھا۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ اس ضمن میں ’وزیر داخلہ بھی رابطے میں رہے ہیں اور یہ معمول کے سفارتی رابطوں کا حصہ ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق کہا کہ وہ ’پرامید ہیں کہ اس کا کوئی حل نکل آئے گا۔ اس تنازعے میں مختلف ادوار آئے ہیں۔ کشیدگی کے بعد فریقین مذاکرات کی طرف آتے رہے ہیں، کشیدگی میں اضافے کے ادوار کے بعد نسبتاً سکون اور پھر بالآخر بات چیت کا مرحلہ بھی آتا رہا ہے۔‘

طاہر اندرابی نے کہا کہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل ’تنازعات میں یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ ہم کشیدگی میں اضافے سے مایوس نہیں ہوتے، جس طرح کسی پرسکون دور میں ہم حد سے زیادہ پرامید بھی نہیں ہوتے، لیکن تنازعے کے حل کے لیے ہم فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ نے رواں ہفتے ہونے والے رابطوں سے متعلق کہا: ’اس پورے ہفتے بھی یہی رجحان رہا ہے۔ نائب وزیراعظم (اسحاق ڈار) نے ایک ہی دن میں تین انتہائی اہم ٹیلی فونک رابطے کیے۔ ہمیں بحرین کے وزیر خارجہ کے جلد دورہ پاکستان کی توقع ہے۔ کویت کے وزیر خارجہ گذشتہ ہفتے یہاں موجود تھے، لہذا یہ کوششیں جاری ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں اس قدر امید ضرور ہے جو کسی بھی قابل اعتماد سہولت کار اور ثالث میں ہونی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مستقبل میں اسلام آباد میں مذاکرات کے امکان کے حوالے سے کہا: ’پاکستان کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے سپیکر کو دعوت دی جا چکی ہے اور ہم مستقبل میں باہمی طور پر موزوں تاریخوں پر ان کے دوروں کی توقع کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں اس وسیع تر امن عمل کے حوالے سے مذاکرات، جب بھی فریقین چاہیں اور جب بھی وہ اس طرح کی بات چیت کے لیے آمادہ ہوں، ہو سکتے ہیں۔‘

طاہر اندرابی نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے کہا: ’ہم پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکے ہیں کہ یہ ایک دستخط شدہ معاہدہ ہے اور موجودہ بحران کے تناظر میں مفاہمت پر پہنچنے کے لیے طے کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ بالخصوص پاکستان اور قطر کے درمیان ہونے والے فالو اپ مشترکہ اعلامیے کے تناظر میں شاید ابھی تک نافذ نہیں ہو سکا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’جب فریقین کشیدگی کی تمام حدیں پار کر لیں اور جب مذاکرات کی معقولیت کشیدگی کی منطق پر غالب آئے گی، تو امن کا لائحہ عمل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان قطر مشترکہ اعلامیے میں موجود ہے۔‘

طاہر اندرابی نے 17 جون کو ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق کہا کہ اس کی ’60 روز کی ڈیڈ لائن جلد ختم ہونے والی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جب فریقین میں مذاکرات کا ارادہ پیدا ہوگا تو اس ڈیڈ لائن میں ہمیشہ توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود ابھی پانچ روز باقی ہیں، اس لیے ہم اس باب کو بند نہیں کر رہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ اگر ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہیں بھی ہوتا تو بالآخر اس میں توسیع ہو جائے گی اور فریقین دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹیں گے۔

اسرائیل کے ریاست فلسطین کے قیام کے انکار پر ردعمل

دفتر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے کسی فلسطینی ریاست کو وجود میں آنے کی اجازت نہ دینے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ’قائم شدہ بین الاقوامی مؤقف کے برخلاف کوئی بھی بیان بے معنی‘ ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’جہاں تک فلسطینی ریاست کا تعلق ہے، یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے اس قائم شدہ بین الاقوامی مؤقف کے برخلاف کوئی بھی بیان بے معنی ہے۔ یہ ایسے خیالات ہیں جن کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔‘

اسرائیلی فوج کے انخلا کے منصوبے اور بورڈ آف پیس کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں جانے سے انکار سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’ہم نے اسرائیل کا عمومی ردعمل دیکھا ہے، یہ خاص طور پر وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے نہیں ہے، لیکن ہاں یہ بورڈ آف پیس میں کیے گئے فیصلے کے لیے ایک انتہائی سنگین دھچکا ہوگا، کیونکہ حماس کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا، دونوں باہم جڑے ہوئے وعدے تھے، لہذا ہمیں امید ہے کہ اسرائیل اپنے وعدے کی پاسداری کرے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *