امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ اور ایران رواں ہفتے کے آخر تک ایک امن معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی تک کسی معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
اگر اس معاہدے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہوگی۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رواں ہفتے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے اطراف نئے حملوں کا حکم دیا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کی، جس کے باعث اپریل کے آغاز میں نافذ ہونے والی کمزور جنگ بندی کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
تاہم جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر طے شدہ حملے منسوخ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی طرف بھی اشارہ دیا۔
تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ زیرِ مذاکرات متن کے بڑے حصے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تاہم ایران اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’ہم اس معاملے پر ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ یہ ایک نہایت اہم مسئلہ ہے جس کا اس وقت متعلقہ فیصلہ ساز ادارے جائزہ لے رہے ہیں۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ایک بہترین تصفیہ کر لیا ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا: ’جیسے ہی ہم دستخط کریں گے، آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر کھول دی جائے گی، جو جلد، بہت جلد، شاید یورپ میں اس ہفتے کے آخر تک ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ کی جانب سے دستخط کر سکتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘
ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب انہوں نے ایران پر طے شدہ فوجی حملے منسوخ کر دیے تھے اور اس کی وجہ مذاکرات میں پیش رفت کو قرار دیا تھا۔
اس خبر کے بعد امریکی حصص بازار میں اضافہ ہوا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔
مارچ کے وسط سے ٹرمپ بارہا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ قریب ہے۔ دونوں فریق اس ہفتے ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے ہیں، جس سے اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا: ’یہ ایک بہت مضبوط مفاہمتی یادداشت ہے جو کسی حد تک نظریاتی نوعیت کی ہے۔‘
ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی امن معاہدے میں یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایسا ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایران کے مطالبات میں بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں میں موجود اربوں ڈالر کی واپسی اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانا شامل ہے۔
ٹرمپ نے بعد میں ایک انتخابی تقریب کے دوران ٹیلی فون کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’اہم بات یہ ہے کہ ایران میں کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے نہ وہ تیار کیا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔‘
ٹرمپ نے اس سے قبل جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ ’آج رات ایران کو بہت سخت جواب دے گا۔‘
ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعے کی صبح رپورٹ کیا کہ ملکی فورسز نے ایک آئل ٹینکر کو مناسب رابطہ کاری کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا۔
دنیا کی توانائی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل معمول کے مطابق اس تنگ آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ بڑی حد تک بند ہے۔
