کراچی کی مصروف شاہراہیں، گاڑیوں کا نہ ختم ہونے والا شور، ہارن کی آوازیں، تپتی دھوپ اور جلد از جلد منزل تک پہنچنے کی بے چینی، ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص صرف اپنے انداز، مسکراہٹ اور دلکش حرکات سے نہ صرف ٹریفک کو رواں رکھے بلکہ لوگوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ بکھیر دے تو یقیناً اس میں کچھ خاص بات ہو گی۔
نمائش چورنگی پر تعینات ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار آج کل کچھ اسی وجہ سے شہر بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
وہ روایتی انداز میں صرف ہاتھ اٹھا کر گاڑیاں نہیں روکتا بلکہ ہلکے پھلکے رقص، دلکش اشاروں اور پرجوش انداز سے ٹریفک کو کنٹرول کرتا ہے۔
ان کے چہرے پر ہر وقت سجی مسکراہٹ اور خوش اخلاقی ان کی پہچان بن چکی ہے۔
حال ہی میں اہلکار کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ ’سوشل میڈیا سینسیشن‘ بن گئے۔
ہزاروں افراد نے اس کی ویڈیو کو پسند کیا، شیئر کیا اور ان کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔
انڈپینڈنٹ اردو بھی نمائش چورنگی پہنچا، جہاں وہ اپنے نرالے انداز سے ٹریفک کے امور سنبھالتے ہوئے دکھائی دیے۔
تپتی دھوپ میں بھی فہیم گل کے ماتھے پر ایک شکن نہ تھی۔ انہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ ’میرا تعلق ضلع مٹیاری کی تحصیل ہالا سے ہے اور میں 2018 سے کراچی میں ٹریفک پولیس کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔‘
فہیم گل کے مطابق: ’ان کی زندگی اس وقت بدل گئی جب ایک خاتون نے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔‘
’مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ میری ویڈیو اس قدر وائرل ہو جائے گی۔ مجھے اس وقت پتہ لگا جب ٹریفک میں موجود بائیک اور رکشہ چلانے والے بھائیوں نے بتایا کہ آپ تو مشہور ہو گئے ہیں۔ تب مجھے پتہ چلا۔ میرے پاس تو فون بھی نہیں ہے، لیکن اب لوگ مجھے پہچانتے ہیں، سراہتے ہیں اور خاص طور پر مجھ سے ملنے کے لیے بھی رک جاتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کی مقبولیت نے ان کے کام کو مزید آسان بنا دیا ہے۔
’جب میں اشارہ کرتا ہوں تو لوگ رک جاتے ہیں، میری بات سنتے ہیں، اور بعض لوگ صرف مصافحہ کرنے یا تصویر بنوانے کے لیے بھی رک جاتے ہیں۔ اس طرح لوگوں سے تعلق بھی بنتا ہے اور ٹریفک بھی بہتر انداز میں چلتی رہتی ہے۔‘
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میرا یہ منفرد انداز بناوٹی یا ڈانس نہیں ہے۔ میں اپنا کام خوشی خوشی کرتا ہوں کیونکہ اسی کام سے میرا گھر چلتا ہے۔ جب روزی اسی سے وابستہ ہے تو میں کیوں نہ اسے دل لگا کر اور خوش اسلوبی سے انجام دوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
ان کے بقول: ’لوگ میرے بارے میں کچھ بھی سوچیں، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر میری وجہ سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے، اگر میرے انداز سے کسی کو خوشی ملتی ہے، تو میرے لیے یہی سب سے بڑا انعام ہے۔‘
’لوگ مجھے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں، کوئی مجھے سڑکوں کا راجہ کہتا ہے، کوئی فقیر اور کچھ لوگ میرا موازنہ شاہ رخ خان سے بھی کرتے ہیں۔ یہ سب لوگوں کی محبت ہے اور میں اس محبت کا شکر گزار ہوں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کراچی کی ہنگامہ خیز زندگی میں فہیم گل اس حقیقت کی مثال ہیں کہ کسی بھی کام کی اصل خوبصورتی اس کے انداز اور نیت میں ہوتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج وہ صرف ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نہیں بلکہ مسکراہٹ، مثبت سوچ اور فرض شناسی کی ایک جیتی جاگتی علامت بن چکے ہیں۔
ٹریفک پولیس اہلکار فہیم گل کراچی کے شاہ رخ خان ہیں: شہری
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے اہلکار نہ صرف اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاتے ہیں بلکہ شہریوں کے لیے مثبت توانائی کا باعث بھی بنتے ہیں۔
عبدالباسط نامی ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’فہیم گل کراچی کے شاہ رخ خان ہیں۔‘
ایک اور شہری سلمان شیخ کہتے ہیں کہ ’ٹریفک اہلکار کا سٹائل کنگ خان جیسا ہے۔ کراچی میں ویسے ہی بہت مسائل ہیں، اگر ان کو دیکھ کر ہمیں خوشی مل رہی ہے تو اور کیا چاہیے۔‘
نمائش چورنگی سے گزرنے والے شہری بھی اس منفرد انداز سے بے حد متاثر ہیں۔
