خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس کے مطابق پولیس لائن کے مرکزی دروازے کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں سات افراد جان سے گئے اور 18 زخمی ہیں۔
سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جبکہ کبل پولیس سٹیشن کے قریب کبل چوک میں بد امنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔
کبل پولیس سٹیشن، سوات پولیس لائن کے اندر واقع ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افیسر نے بتایا کہ سوات دھماکے میں سات افراد جان سے گئے اور 18 شدید زخمی ہوئے ہیں۔
سوات کے کبل چوک میں آج سول سوسائٹی تنظیموں اور امن ماسون نامی تنظیم کی جانب سے بد امنی کے خلاف احتجاجی مظالرہ کیا جا رہا ہے اور اسی دوران یہ دھماکہ ہوا۔
اس احتجاجی جلسے کی اجازت پولیس کی جانب سے نہیں دی گئی تھی اور پولیس نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس احتجاجی مظاہرے کے لیے اجازت نامہ جاری نہیں ہوا ہے اور اگر کسی نے جلسہ کیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیں گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سوات پولیس کے ضلعی سربراہ محمد عمر خان نے دھماکے کی جگہ میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ احتجاجی مظاہرے کی سکیورٹی کے لیے ہماری زیادہ نفری تعینات تھی اور اس واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
محمد عمر نے بتایا کہ دھماکہ خود کش تھا اور خود کش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے جبکہ دھماکے میں پولیس اہلکاروں اور عام لوگوں کی موت واقع ہوئی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ویسے تو عسکریت پسندی گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے موجود ہے لیکن 2010 کے بعد مختلف فوجی آپریشنز کے بعد دہشت گرد کارروائیوں میں خاطر خواہ کمی آئی تھی اور صوبے میں امن قائم ہوا تھا۔
اس دوران 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد فوجی و سیاسی قیادت نے متحدہ طور پر نیشنل ایکشن پلان نامی منصوبہ بنایا تھا اور عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا ۔
تاہم گذشتہ کچھ ماہ سے خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، مختلف تھانوں، اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
ان میں سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع ہیں جہاں آئے روز چیک پوسٹوں اور پولیس سٹیشنوں پر عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے کیے جاتے ہیں۔
