نارووال میں 125سالہ قدیم مندر بارشوں سے منہدم ہوا، محکمہ اوقاف کی تحقیقات

محکمہ اوقاف پنجاب نے تحقیقات کے بعد قرار دیا ہے کہ نارووال سراج گاؤں میں 125 سالہ تاریخی مندر بارشوں اور خستہ حالی کے باعث منہدم ہوا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں انڈیا کے مندر کو مسمار کرنے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

تقسیم برصغیر کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے مختلف علاقوں میں مذہبی عبادگاہوں کے حوالے سے تنازعات ابھی تک جاری ہیں۔ بابری مسجد کو منہدم کرنے اور ردعمل میں پاکستانی مسلمانوں کے یہاں مندروں کو نقصان پہنچانے پر بھی بڑا تنازع کھڑا ہوا تھا۔

ان دنوں بھی انتہا پسند ہندووں کی جانب سےانڈیا میں مسجدوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم نارروال میں اس مندر کے منہدم ہونے پر انڈیا نے پاکستان پر اسے مسمار کرنے کا الزام لگایا ہے۔

محکمہ اوقاف پنجاب کے ترجمان محی الدین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’حکومت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ دینے کے ساتھ ان کی مذہبی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال بھی مسلسل کرتی ہے۔ لیکن سراج گاؤں میں قدیمی مندر شدید بارشوں اور خستہ حالی کی وجہ سے منہدم ہوا ہے۔ اس کی مرمت اور تذئین و آراش کا کام جلد شروع ہوجائے گا۔

’مندر کو مسمار کرنے کے  حوالے سے اعلی سطحی انکوائری کی گئی ہے۔ جس میں ثابت ہوچکا ہے کہ یہ مندر کسی نے مسمار نہیں کیا نہ ہی کسی نے نقصان پہنچایا۔ بلکہ موسلادھار بارشوں اور خستہ حالی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔‘

متروکہ وقف املاک بورڈ پنجاب کے سیکرٹری اور انکوائری ٹیم کے رکن ناصر مشتاق نے واضح کیا کہ ’مندر کو کسی فرد یا ادارے کی جانب سے دانستہ طور پر نقصان پہنچانے یا گرانے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ حالیہ موسلادھار اور طوفانی بارشوں کے باعث قدیم اور خستہ حال مندر کی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوا، جسے انسانی کارروائی قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک غیر فعال مندر ہے جہاں اس وقت کوئی مذہبی رسومات ادا نہیں کی جاتیں، جبکہ سراج گاؤں یا اس کے قریبی علاقوں میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی کوئی فیملی بھی موجود نہیں۔

سیکرٹری بورڈ نے کہا کہ غیر فعال ہونے کے باوجود مندر تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ پنجاب حکومت کے تعاون سے مندر کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے جلد باقاعدہ کام شروع کرے گا۔

ناصر مشتاق نے اپنے بیان میں کہا کہ ’واقعے کو دانستہ مسماری قرار دے کر افواہیں پھیلانا درست نہیں۔ بعض ملک دشمن عناصر غلط اطلاعات کے ذریعے پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ناصر کے بقول ’متروکہ وقف املاک بورڈ اقلیتوں کے مذہبی مقامات، تاریخی عمارات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و دیکھ بھال کے لیے کوشاں ہے۔ فعال مذہبی عبادت گاہوں میں زائرین اور عبادت گزاروں کی حفاظت کے لیے مؤثر سکیورٹی انتظامات بھی یقینی بنائے جاتے ہیں۔‘

ترجمان وزارت خارجہ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مندر کی عمارت 21 جولائی 2026 کو شدید موسلا دھار بارشوں کے باعث متاثر/منہدم ہوئی۔ مقامی انتظامیہ نے بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لے کر عمارت کی بحالی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان نے انڈیا کے اس دعوے کو کہ مندر کو جان بوجھ کر مسمار کیا گیا جھوٹا اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے انڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔

قبل ازیں پنجاب کے وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا اس حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ مندر کو گرائے جانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط اور حقیقت کے برعکس ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود موقع پر جا کر صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور حقائق یہ ہیں کہ حال ہی میں ہونے والی موسلا دھار اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے مندر کی قدیم عمارت کا صرف ایک حصہ منہدم ہوا تھا، جسے کوئی انسانی کارروائی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *