شدید گرمی کے باعث جاری ہیٹ ویو کی وجہ سے پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان میں پانی کے جوہڑ خشک ہو گئے ہیں اور کئی علاقوں سے لوگ جانوروں سمیت نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے میدانی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث درجہ حرارت 45 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسمی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عمر جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’گرمی کی شدت کے باعث ہیٹ ویو جاری ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کے شہروں خاص طور پر چولستان میں گرمی زیادہ پڑ رہی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’وہاں جوہڑ خشک ہونے پر کئی علاقوں کے لوگ جانوروں سمیت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ انہیں امداد فراہم کرنے کے لیے ریسکیو اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے کیمپ لگائے جارہے ہیں اور پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔‘
چولستان کے لوگوں کا روزگار کھیتی باڑی اور زیادہ تر جانور پالنے پر منحصر ہے اور بارش نہ ہونے سے یہ علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ضلع بہاولپور کے شہر یزمان سے تعلق رکھنے والے کسان محمد افضل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رواں ماہ شدید گرمی سے پانی کے جوہڑ اور نالے خشک ہو چکے ہیں۔ ’جانور تو کیا انسانوں کو بھی پانی کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے ہم جانوروں سمیت شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ جب موسم بہتر ہوگا اور بارش سے تالاب اور جوہڑوں میں پانی آئے گا تو واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔‘
ڈی جی عمر جاوید کے بقول: ’پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کئی علاقوں میں پائپ بچھا کر پانی پہنچایا ہے، لیکن دور دراز صحرائی علاقوں میں اب بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے علاوہ پسماندہ علاقوں میں کیمپ لگا کر لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ حکومت دور دراز علاقوں میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔‘
