تھانہ کاؤنٹر کرائم ڈپارٹمنٹ (چکوال پولیس)
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نو سالہ بچی اس وقت جان سے چلی گئی اور اس کے خاندان کے دو افراد زخمی ہوئے جب ڈاکوؤں کے تعاقب کے دوران چکوال پولیس نے مبینہ طور پر غلط شناخت پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔
مقامی حکام نے اتوار کو بتایا کہ پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک پولیس اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا، جس نے غلطی سے اس گاڑی پر فائرنگ کی۔
پرتھ کے علاقے کیوڈیل سے تعلق رکھنے والا پاکستانی نژاد خاندان چکوال میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آیا ہوا تھا، جہاں بدھ کی رات موٹر سائیکل پر سوار مسلح ڈاکوؤں نے انہیں روک لیا۔
سڑک کے پار تھانے واپس جانے والے ایک پولیس اہلکار کا واقعہ دیکھنے کے بعد دو ڈاکوؤں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ڈاکو موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے تاہم معاملہ اس وقت غلط رخ اختیار کر گیا جب موقعے پر پہنچنے والی مزید پولیس نے خاندان کو گاڑی لے جاتے دیکھا اور فائرنگ کر دی۔
پولیس کے مطابق اہلکاروں نے اسے ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ لیا تھا۔
ایک پولیس اہلکار نے مقامی میڈیا کو بتایا ’جیسے ہی پولیس اہلکاروں نے گاڑی کو جاتے دیکھا، انہوں نے اسے ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی۔‘
بچی کی شناخت ہانیہ احمد کے نام سے ہوئی۔ اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
فائرنگ میں لڑکی کے والد اور بھائی زخمی ہوئے، جنہیں راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وہاں دونوں کی سرجری کی گئی۔ واقعے میں بچی کی والدہ محفوظ رہیں۔
تصاویر میں ایک سفید گاڑی دکھائی دی، جس پر ایک درجن سے زائد گولیوں کے نشانات تھے۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق چکوال ڈسٹرکٹ پولیس نے بتایا کہ دو مرکزی ملزم بعد میں ایک ’پولیس مقابلے‘ میں مارے گئے۔
بیان میں کہا گیا ’واقعے میں ملوث ملزموں کی گرفتاری کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دونوں مرکزی ڈاکو مارے گئے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں اور اگر غفلت ثابت ہوئی یا کوئی اہلکار قصوروار پایا گیا تو ’سخت قانونی کارروائی‘ کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ’واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنانے کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’ٹیم کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔‘
یہ جوڑا حج کے لیے سعودی عرب کے شہر مکہ گیا تھا اور بدھ کو واپس آیا تھا۔ اسی روز یہ واقعہ پیش آیا۔
پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق ڈاکو خاندان سے تقریباً پانچ لاکھ پاکستانی روپے مالیت کے زیورات لوٹ کر لے گئے تھے۔
آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ و تجارت نے کہا کہ وہ خاندان کو قونصلر معاونت فراہم کر رہا ہے۔
محکمے کے ایک ترجمان نے بیان میں کہا ’ہم اس مشکل وقت میں خاندان سے گہری تعزیت کرتے ہیں۔‘
مغربی آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل ٹونی بیوٹی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچی اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے گئی ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا ’یہ غلط شناخت کا معاملہ تھا اور بدقسمتی سے اسے (بچی کو) گولی لگی، جس کے نتیجے میں وہ جان سے گئی۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔‘
انہوں نے کہا ’میں نے آج صبح مغربی آسٹریلیا کی پاکستانی برادری کے ایک سینیئر رکن عبداللہ خان سے بات کی تاکہ حکومت کی تعزیت اور تعاون کا پیغام پہنچا سکوں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ’انہوں نے مجھے بتایا کہ بچی کے والد اور بھائی صحت یاب ہو رہے ہیں لیکن یہ واقعی ایک انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے۔‘
آسٹریلیا میں پاکستانیوں کی تنظیم کی صدر زرین صدیقی نے کہا یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔
انہوں نے کہا ’اس وقت ہم بہت زیادہ صدمے میں ہیں۔‘
’اگرچہ ہمارا ان سے براہ راست تعلق نہیں لیکن کمیونٹی تنظیموں کی وجہ سے لوگ ہم سے رابطہ کر رہے ہیں کہ اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتائیں اور اپنی تعزیت بھی پیش کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ بچی کی والدہ ڈینٹسٹ ہیں جب کہ والد انجینیئر ہیں۔
