وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں اسلام آباد کی ثالثی کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی اقوام کے درمیان ایک امن ساز ملک کے طور پر فخر کے ساتھ کھڑا ہے۔
کراچی میں پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125 ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن (ایس ایس سی) کورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا: ’آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان دنیا کی اقوام کے درمیان ایک امن ساز ملک کے طور پر فخر کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں اور برادر و دوست ممالک کی حمایت سے، امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ممکن ہوئے، جس پر بطور ثالث دستخط کرنے کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہوا۔‘
اس موقعے پر انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو خاص طور پر سراہا۔ بقول وزیراعظم انہوں نے ’دن رات کام کرتے ہوئے اور ہر ممکن کوشش بروئے کار لا کر تمام فریقوں کو امن اور سکون کی راہ پر اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
“Today, with Allah’s blessings, Pakistan stands proud as a peacemaker among the nations of the world. Pakistan’s sincere mediation efforts, with the support of brotherly and friendly countries, led to the historic signing of the Islamabad Memorandum of Understanding between the… pic.twitter.com/ZHnvqDUawx
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 27, 2026
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کو پاکستان اور ایران کے درمیان ’مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر‘ اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے ’پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف‘ بھی قرار دیا۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے، بعد ازاں 18 جون کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اس دستاویز پر دستخط کیے۔
وزیراعظم نے پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں مزید کہا: ’میری حکومت پاکستان بحریہ کو ایک مضبوط اور مؤثر قوت بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، ایسی قوت جو نہ صرف قومی دفاع کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو بلکہ وسیع بحری خطے میں استحکام پیدا کرنے والی طاقت کے طور پر بھی کردار ادا کرے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول وزیراعظم: ’اس فورس نے عملی میدان میں ٹھوس نتائج دیے ہیں، جس کا مظاہرہ پاکستان بحریہ نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران کیا۔ پاکستان بحریہ نے اپنے آپریشنل دائرۂ کار میں عددی لحاظ سے برتر دشمن کو مؤثر طور پر روکنے اور اسے رسائی سے محروم رکھنے میں کامیابی دی اور پورے تنازع کے دوران اسے دور رکھا۔‘
انہوں نے ملک کو درپیش خطرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’پاکستان اس وقت پیچیدہ اور کثیر الجہتی سکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن میں داخلی اور خارجی خطرات کا ایک خطرناک امتزاج شامل ہے۔‘
انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا: ’ہمارا مشرقی ہمسایہ، جو گذشتہ سال مئی میں چار روزہ تنازعے کے دوران ایک ذلت آمیز ناکامی سے دوچار ہوا، اب ملک کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ حربوں اور پراکسی عناصر کے استعمال کی طرف زیادہ مائل ہو گیا ہے۔‘
بقول وزیراعظم: ’پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پورا ملک اپنے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے آہنی عزم پر قائم ہے، جبکہ تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی راہ پر گامزن رہنے کا خواہاں بھی ہے۔‘
