پاکستان، سعودی عرب سمیت 8 مسلم ممالک کی غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت

پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کے لیے عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق سات  اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت بعد سے غزہ میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے جا چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے سرکاری ریکارڈز اور آزاد مطالعات کے مطابق اموات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ہزاروں لاپتہ افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں طبی مراکز اور صحت کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے، شہری تنصیبات پر حملوں اور خواتین و بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ان اقدامات سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے جامع منصوبے کی دوسری مرحلے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے شہریوں کے تحفظ، طبی عملے اور انسانی امدادی کارکنوں کی سلامتی اور غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کو قانونی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان امور پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ کی صورت حال کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں، غیر قانونی بستیوں کے پھیلاؤ اور مقبوضہ یروشلم میں اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان اقدامات کو دو ریاستی حل کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر مجبور کرے اور سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داران کا احتساب یقینی بنائے۔

وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق، اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلے کا واحد حل 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *