مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے دوران ایک غیر رسمی ثالث کے طور پر چین کا کردار دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔
چین کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بیجنگ خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ امریکہ کے اقدامات اس کے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں چین کی بین الاقوامی سفارت کاری میں اہمیت بڑھی ہے جس کی بڑی وجہ اس کے سفارت کاروں کی فعال کوششیں ہیں۔
اگرچہ ماضی میں بیجنگ اپنی سرحدوں سے دور تنازعات اور جنگوں میں مداخلت سے گریز کرتا رہا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ تک مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششوں کے باعث ایک اہم کردار بن کر ابھرا ہے۔
ایران جنگ کے معاملے میں بیجنگ باضابطہ ثالث نہیں لیکن واشنگٹن اور تہران سمیت تمام فریقین کا کہنا ہے کہ اس نے کشیدگی کم کرنے کی اسلام آباد کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مختلف تنازعات میں چین کی سفارتی حکمت عملی ایک جیسی رہی ہے اور مذاکرات پر اثر انداز ہونے میں اس کی کامیابی ملی جلی رہی ہے تاہم یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکہ اور نیٹو، یورپی یونین اور خلیج میں اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔
ایران جنگ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ چین کے قریبی معاشی اور سیاسی تعلقات سے اسے ایک منفرد اثر و رسوخ حاصل ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ تنازع عالمی توانائی کی، خصوصاً ایشیا میں، فراہمی متاثر کر رہا ہے۔
جنگ بندی میں کردار
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین نے ایران کو اس نازک جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے میں مدد دی جس میں بعد ازاں توسیع بھی کی گئی۔
سفارت کاروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو اس ماہ کے اوائل میں پاکستان میں ہونے والے تاریخی براہ راست مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر آمادہ کیا۔
سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کی محقق یاچی لی کے مطابق بیجنگ نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، غالباً اس لیے کہ وہ خود کو امریکہ کی قیادت میں قائم سکیورٹی نظام کا حصہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔
اس کے باوجود بعض حلقے اسے بیجنگ کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہیں، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر تنقید کرتا رہا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیل، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے کیے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق اپریل کے وسط تک وہ اس جنگ کے حوالے سے 30 ٹیلیفونک رابطے کر چکے تھے۔
وانگ یی نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی میزبانی بھی کی، جو حالیہ مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اس موقع پر تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مشتمل پانچ نکاتی تجویز پیش کی۔
حالیہ دنوں میں چینی صدر شی جن پنگ غیر معمولی طور پر زیادہ واضح موقف اختیار کرتے نظر آئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ’جنگل کے قانون‘ کی طرف واپس نہ لوٹے، جبکہ اس ہفتے انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی زور دیا۔
چین کی معاشی طاقت
ایشیا گروپ کے ماہر جارج چن کے مطابق ایران کے معاملے میں چین کے کردار کا کوئی متبادل نہیں۔ تہران کے سب سے بڑے تیل خریدار کے طور پر ایران میں اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ میں بھی ایران کے مؤقف کے لیے ہمدردی ظاہر کرنے والے چند ممالک میں شامل ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق مبینہ طور پر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام چینی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا جبکہ چین ایسے صنعتی پرزے بھی فراہم کرتا ہے جو میزائل بنانے میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ چین براہِ راست ثالثی میں پاکستان یا خلیجی عرب ممالک جتنا فوری اثر و رسوخ نہیں رکھتا، تاہم وہ ان ممالک کا اہم معاشی شراکت دار ہونے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے ماہر توویا گیرنگ کے مطابق چین ایران کو جنگ کے بعد تعمیر نو اور معاشی بحالی کے لیے سرمایہ کاری اور مراعات دینے کی پوزیشن میں ہے، جو بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’چین ان چند طاقتوں میں سے ہو سکتا ہے جو تہران کو سیاسی تحفظ اور عملی مراعات دونوں فراہم کر کے اسے کسی معاہدے کی پابندی پر آمادہ کر سکے۔‘
عالمی ثالث کے طور پر چین کا بڑھتا ہوا قد
حالیہ برسوں میں چین کی ایک بڑی سفارتی کامیابی 2023 میں سامنے آئی، جب اس نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا، جسے ایک بڑی جغرافیائی سیاسی پیش رفت قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق چین عموماً ایسے مواقع پر ثالثی کرتا ہے جب حالات پہلے ہی کسی معاہدے کے لیے سازگار ہوں، اس لیے اس کا کردار نسبتاً کم خطرے والا ہوتا ہے۔
چین نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان حالیہ تنازعے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا، جبکہ یوکرین جنگ کے لیے بھی امن تجاویز پیش کیں، حالانکہ وہ روس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ چین نے حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی اورمچی میں امن مذاکرات کی میزبانی ہے۔
چین کا محتاط سفارتی انداز
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی سفارت کاری ایک مخصوص انداز کی پیروی کرتی ہے، جس میں اقوام متحدہ کے منشور، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا جاتا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی گذشتہ ہفتے پرامن بقائے باہمی، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔
