پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا ہے کہ امریکہ اور اور ایران میں حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے باوجود پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
دفتر خارجہ نے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی حملوں کا تبادلہ ہوا۔ یہ کشیدگی ایک سنگاپوری پرچم بردار آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کے بعد سامنے آئی۔
امریکہ نے کہا کہ اس نے ایران میں ڈرون ذخیرہ گاہوں اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
یہ رابطہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے منگل کو پاکستان کے دورے کے بعد ہوا، جس کے دوران انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ممکن بنانے اور اس پر عمل درآمد میں پیش رفت کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا تھا۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق: ’نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ عباس عراقچی نے امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کی حمایت کو سراہا اور ایرانی ماہی گیروں کی ’محفوظ اور ہموار‘ وطن واپسی میں تعاون پر اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تازہ کشیدگی ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران گذشتہ ہفتے طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔
سنگاپور کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایور لولی پر حملہ اس وقت ہوا جب بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو عمان کے ساحل کے ساتھ متبادل راستے سے نکال رہی تھی۔
اقوام متحدہ کے ذیلی بحری ادارے نے حملے کے بعد انخلا کی کارروائی معطل کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی جب تک جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔
ایران نے حالیہ عرصے میں آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔
فریقین کے درمیان تازہ حملوں نے اس بارے میں نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی مستقل تصفیے تک پہنچنے کے لیے جنگ بندی کو برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں؟
