پاکستان سے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی: چینی کمپنی

بلوچستان کے گوادر زون میں کام کرنے والی چینی کمپنی ہان گینگ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان سے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ 

کمپنی نے گذشتہ روز انتظامی معاملات کی وجہ سے کام بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

کمپنی کے سربراہ اینڈی لیاؤ نے اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کمپنی کو بند کرنے کا بیان جاری کرنے کے بعد حکومت پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار نے رابطہ کیا اور اجازت نامہ دینے کا بتایا۔‘ 

کمپنی کی جانب سے یکم مئی کو ایک بیان جاری کیا گیا تھا کہ نان آپریشنل رکاوٹوں کی وجہ سے کمپنی اپنے تمام ملازمین کو فارغ کرنے اور کام بند کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ 

بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’ہماری کمپنی کو چین کے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عالمی معیار کی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے، تاہم تمام تر ضروری منظوری کے باوجود ہمیں درآمدات کے لیے پاکستان کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا۔‘ 

کمپنی کے عہدیدار اینڈی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بغیر کسی وجہ کے ہمیں وفاقی وزارت خوراک کی جانب سے این او سی جاری نہیں ہوا تھا لیکن اب اجازت مل گئی ہے۔‘ 

انہوں نے مزید بتایا کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے ہمیں ہر قسم کی سپورٹ مل رہی ہے لیکن انفرادی طور پر محکموں میں لوگ ذاتی مفاد کے لیے ایسا کرتے ہیں۔‘ 

اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے وزارت خوراک کے ترجمان شاہ فیصل سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان کی طرف سے ابھی تک موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کا موقف آنے پر اسے اس خبر میں شامل کر لیا جائے گا۔ 

کمپنی کے بیان کے مطابق ’پاکستان اور چین سٹریٹجک پارٹنرز ہیں جس میں گوادر بندرگاہ ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جہاں ہم نے بہت محنت سے سرمایہ کاری کی ہے۔‘ 

کمپنی کے عہدیدار اینڈی نے بتایا کہ ’اب اجازت نامہ مل گیا ہے اور بہت جلد برآمدات کا آغاز کیا جائے گا جو کنٹینرز کے ذریعے چین برآمد کیا جائے گا۔‘ 

کمپنی کی بنیاد 

کمپنی کے سربراہ اینڈی نے بتایا کہ ’گوادر فری زون میں 70 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے 2023 میں گدھوں کے لیے سلاٹر ہاؤس بنایا گیا ہے جہاں سے 15 ہزار ٹن تک گدھے کا گوشت اور سالانہ دو لاکھ 16 ہزار تک گدھے کی کھالیں چین برآمد کی جائیں گی جو ایچاؤ نامی دوا میں استعمال ہوتی ہے۔‘ 

امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایچاؤ (جو گدھے کی کھال سے نکلنے والی جیلاٹن کو کہا جاتا ہے) ایک روایتی چینی دوا ہے جو بطور فوڈ سپلیمنٹ خون کی کمی، اور دیگر صحت کے فائدوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این آئی ایچ کے مطابق 2020 میں ایچاؤ کی فروخت چھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 

وفاقی وزارت برائے قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے عہدیدار نے اکتوبر 2024 میں انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا کہ پاکستان میں 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق گدھوں کی آبادی 52 لاکھ ہے۔ 

عہدیدار نے بتایا تھا کہ اگر اسی حساب سے سالانہ دو لاکھ 16 ہزار گدھے ذبح کیے جائیں گے، تو گدھوں کی آبادی کم ہو جائے گی اور اسی وجہ سے ہم نے چینی کمپنی کو گدھوں کی فارمنگ کے حوالے سے مقامی فارمز کے ساتھ معاہدوں کی تجویز بھی دی ہے۔ 

چین میں گدھے کے گوشت کا استعمال 

چین میں تعلیم حاصل کرنے والی پاکستانی مصنفہ تحریم عظیم کے مطابق ’چینی گدھے کے گوشت سے بنے ہوئے برگر کھاتے ہیں۔‘ 

تحریم کے مطابق یہ برگر ان کے شمالی صوبے ہوبئے کی خاص سوغات ہے اور چین کے ہر شہر میں اس صوبے کے کھانوں کے ماہر ریستورانوں پر اپنے گاہکوں کو فخریہ یہ سوغات کھلاتے ہیں۔ 

’ایسے ریستورانوں کی بیرونی دیواروں پر گدھے کی تصاویر بنی ہوئی ہوتی ہیں، جو دور سے ہی دیکھنے والوں کو وہاں گدھے کے گوشت کی دستیابی کی اطلاع دیتی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *