لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت: نبطیہ سے شہریوں کا انخلا، الریحان کے میئر کی موت

لبنان کے جنوبی علاقوں میں ہفتے کو اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی، جبکہ اسرائیلی فوج نے نبطیہ شہر سمیت 24 مقامات کے رہائشیوں کو فوری طور پر اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ حملے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے جمعے کے روز اس اعلان کے بعد ہوئے ہیں کہ امریکہ اور ایران نے ایک معاہدے کے الفاظ پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد اپنی جنگ کو ختم کرنا ہے، اور یہ کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے صور، نبطیہ کے قریب واقع جزین کے علاقے ریحان اور سجود سمیت متعدد دیہات کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ریحان میں ایک حملے میں وہاں کے میئر علی بادی کی موت واقع ہو گئی ہے۔ 

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق نبطیہ شہر تقریباً خالی ہو چکا ہے، جبکہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں رات بھر اور ہفتے کے روز بھی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

ایک روز قبل بھی علی طاہر کی پہاڑیوں کے اطراف دھماکوں اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

اسرائیلی فوج نے نبطیہ اور ساحلی علاقوں کے قریب 24 مقامات کے مکینوں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں کو چھوڑ کر دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔

اسرائیل گذشتہ ماہ دریائے زہرانی کے جنوب کے تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دے چکا ہے اور اس کے بعد سے وہاں شدید حملے جاری ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے میں لبنان کا معاملہ بھی شامل ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اب تک 3700 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور حالیہ مشروط معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس میں حزب اللہ کے حملے روکنے کی شرط تو شامل ہے، لیکن اسرائیلی فوج کے انخلا یا اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں۔

حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان علی فیاض نے کہا ہے کہ لبنان کو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے سے فائدہ اٹھانا چاہیے، تاہم ریاست کو اسرائیل اور امریکہ کے سامنے کمزور رویہ ترک کرنا ہو گا۔

دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے خبردار کیا ہے کہ ملک ایک ’فیصلہ کن امتحان‘ سے گزر رہا ہے۔

ان کے مطابق لبنان یا تو ایک خودمختار ریاست کے طور پر متحد ہوگا جہاں اسلحے پر صرف ریاست کا اختیار ہو گا، یا پھر ملک ملیشیاؤں کا یرغمال بنا رہے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *