’مکہ روٹ‘ نے سالوں سے منتظر انڈونیشین خاتون کا حج سفر کیسے بدلا؟

10 برس سے زیادہ عرصے تک خیریہ بنت محمد بکری کی ایک ہی اٹل خواہش رہی اور وہ ہے حج کی خواہش۔

انڈونیشیا کے صوبے شمالی مالوکو کی خیریہ نے حج کا خواب 2013 میں اپنے دل میں بسایا اور پھر اسے ان برسوں کے دوران سنبھالے رکھا جنہیں وہ بوجھ نہیں بلکہ صبر، دعا اور خدا پر بھروسے سے مزین ایک روحانی سفر قرار دیتی ہیں۔

اب جب وہ حج کی ادائیگی کی تیاری کر رہی ہیں تو برسوں کا وہ طویل انتظار کا مرحلہ ایک بالکل مختلف تجربے میں بدل چکا ہے۔

ایسا تجربہ جو سعودی عرب کے ’مکّہ روٹ‘ اقدام کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور پروسیجر سے تشکیل پایا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق خیریہ نے کہا کہ اس پروگرام نے ان کے سفر کو بدل کر رکھ دیا کیونکہ اس کے ذریعے وہ اپنے ملک سے روانگی سے پہلے ہی اہم سفری کارروائیاں مکمل کر سکتی ہیں اور مملکت پہنچ کر طویل قطاروں اور پروسیسنگ سے بچ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا ’یہ (پروگرام) ہمیں ذہنی سکون کے ساتھ اپنے مناسک شروع کرنے کی سہولت دیتا ہے۔‘

وہ اسے ایسا نظام قرار دیتی ہیں جو تھکن کی جگہ حج کے روحانی مقصد پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

سلطان حسن الدین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر، جہاں سے وہ روانہ ہونے والی تھیں، سعودی ٹیمیں اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ ان کا سفر مکمل ہموار ہو۔

عازمین روانگی سے پہلے ہی داخلے کے تمام مراحل مثلاً پاسپورٹ کنٹرول، کسٹمز اور سامان کی کلیئرنس مکمل کر لیتے ہیں، جس سے مملکت پہنچ کر وہ سیدھے مکہ اور مدینہ میں اپنی رہائش گاہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ نظام سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے فراہم کردہ ایک مربوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر چلتا ہے، جو درستگی اور کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ 

تکنیکی ٹیمیں یقین دہانی کرتی ہیں کہ روانگی ہال سے لے کر مقدس شہروں تک کا پورا عمل بلا تعطل جاری رہے۔

مکاسر سے روانہ ہونے والے انڈونیشی عازمین نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انتظار کا دورانیہ واضح طور پر کم ہو گیا ہے اور سفر کی جسمانی مشقت بھی کم ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی مذہبی ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔

یہ اقدام سعودی وزارت داخلہ نے متعدد اداروں کے تعاون سے نافذ کیا ہے اور اس سال اسے 10 ممالک کے 17 بین الاقوامی ہوائی اڈوں تک توسیع دی گئی ہے۔

2017 میں آغاز کے بعد سے اب تک یہ ساڑھے 12 لاکھ سے زائد عازمین کو سہولت فراہم کر چکا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مملکت اپنے وژن 2030 کے تحت حج کے انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

لیکن خیریہ کے لیے یہ سفر محض انتظامات تک محدود نہیں۔ وہ حج کو صرف ایک سفر نہیں بلکہ ایک روحانی ملاپ قرار دیتی ہیں۔

ایک ایسا لمحہ جہاں دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان ایمان اور مقصد کے رشتے میں جڑ کر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’حج ایک گہرا روحانی اجتماع ہے۔‘

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک حج ہر سال سعودی عرب میں لاکھوں مسلمانوں کو یکجا کرتا ہے اور یہ دنیا کے سب سے بڑے باقاعدہ انتظامی آپریشنز میں سے ایک ہے۔ 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال 16 لاکھ 70 ہزار سے زائد عازمین نے حج ادا کیا، جن میں اکثریت بیرونِ ملک سے آنے والوں کی تھی۔

انڈونیشیا سے حج پر سب سے زیادہ مسلمان جاتے ہیں جس کے بعد پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے، جو اس بڑے اور متنوع عالمی سفر کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے جسے ہر سال سعودی حکام کو سنبھالنا ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں مکّہ روٹ جیسے اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ خیریہ جیسے عازمین کا سفر قطاروں اور تاخیر سے نہیں بلکہ وقار، آسانی اور ذہنی سکون سے شروع ہو۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *