پاکستان ریلوے نے نئی ٹرینوں کے اعلان کے ساتھ آٹھ مسافر گاڑیاں بند کیوں کر دیں؟

پاکستان ریلوے نے مالی مشکلات، ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں، آپریشنل اخراجات اور مسافروں کی کم تعداد کے باعث ملک بھر میں چلنے والی آٹھ مسافر ٹرینوں کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے، جس کے بعد مسافروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

عوام نے ان گاڑیوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ٹرین سفر ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق بند کی جانے والی ٹرینوں میں خوشحال خان خٹک ایکسپریس، بولان میل، چمن ایکسپریس، ماروی ایکسپریس، سمن سرکار ایکسپریس، موہنجو داڑو ایکسپریس اور راوی ایکسپریس شامل ہیں۔ یہ ٹرینیں ملک کے مختلف چھوٹے اور درمیانے درجے کے روٹس پر چل رہی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان ٹرینوں کو اخراجات میں کمی اور کم مسافروں کے باعث عارضی طور پر روکا گیا ہے اور جیسے ہی توانائی بحران میں بہتری اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی آئے گی، ان سروسز کو بحال کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان ریلوے نے رواں سال 93 ارب روپے سے زائد آمدن کا دعویٰ بھی کیا ہے، جبکہ پنجاب حکومت کے تعاون سے لاہور سے اسلام آباد کے درمیان تیز ترین ٹرین چلانے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ ہر سال عید کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلا کر مسافروں کو سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس کے باعث حالیہ فیصلے کو متضاد قرار دیا جا رہا ہے۔

مسافروں کے مطابق موجودہ توانائی بحران، جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہوا، میں ٹرین سفر نسبتاً سستا اور قابل اعتماد ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے بس اور دیگر ذرائع سے سفر کو مہنگا کر دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسے میں ٹرینوں کی بندش نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر عید کے موقع پر ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

مسافروں نے یہ بھی شکایت کی کہ جو ٹرینیں اب بھی چل رہی ہیں، ان کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ اکانومی کلاس کے ڈبوں میں صفائی کا فقدان ہے اور واش رومز میں پانی تک دستیاب نہیں ہوتا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بند ٹرینیں فوری بحال کی جائیں اور موجودہ سروسز کا معیار بھی بہتر بنایا جائے۔

ریلوے حکام کے مطابق اس وقت ملک بھر میں روزانہ 90 سے 104 مسافر ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں سے 15 سے 22 ٹرینیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی شعبے کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں۔

تاہم ریلوے ٹریک کی خراب حالت کے باعث آئے روز ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں، جو اس نظام کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *