امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو شائع ہونے والی امریکی میڈیا اداروں سی بی ایس اور ایگزیوس کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم حکومتی معاملات کے باعث اپنی ذاتی سرگرمیاں بھی محدود کر دی ہیں۔
گذشتہ روز صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے سفر نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’موجودہ حالات اور امریکی مفادات کے پیش نظر میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں موجود رہوں۔‘
انہوں نے اپنے بیان میں ملک سے محبت کو بھی اس فیصلے کی وجہ قرار دیا۔
دونوں امریکی میڈیا اداروں کے مطابق ایران پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی منظوری نہیں دی گئی، تاہم صورت حال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں، جن میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کرنے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم سی بی ایس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ’صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ ہاؤس نے جمعے کو صدر ٹرمپ کے اختتام ہفتہ کے منصوبوں میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیو جرسی میں واقع اپنے گالف ریزورٹ جانے کے بجائے واشنگٹن میں ہی قیام کریں گے۔
اسی روز نیویارک کے دورے سے واپسی پر انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے سے بھی گریز کیا، حالانکہ وہ عموماً صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں۔
ایگزیوس نے دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ گزشتہ چند دنوں میں ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل سے خاصے مایوس ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کا مؤقف ہفتے کے دوران سفارتی حل سے ہٹ کر ممکنہ فوجی کارروائی کی جانب مائل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
سی بی ایس نے بھی نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ بعض اہلکاروں نے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنی چھٹیوں کے منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔
