دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پرامید ہے اور ’سفارت کاری کی گھڑی‘ رکی نہیں ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی، لیکن اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔
پاکستان بطور ثالث اب بھی کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے پیغامات کا تبادلہ جاری رہنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی حوالے سے جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: ’ہم خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے اپنی مخلص کوششیں جاری رکھیں گے۔‘
بریفنگ کے بعد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے مذاکرات کے حوالے سے سوالات پر طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ بھی اسی تناظر میں تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔ صورت حال یہ ہے سفارت کاری کی گھڑی رکی نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں جنگ بندی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، جس نے دشمنیوں کو ختم کرنے میں مدد دی، حملے روکے، خلیجی خطے اور وسیع علاقے میں آمد و رفت اور کشیدگی ختم ہوئی۔ کئی جانیں بچائی گئیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچایا گیا۔ اس سب سے اس مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ’سفارتی تبادلے اور رابطوں کے ذرائع کھلے رہے۔ سہولت کاری کا عمل جاری رہا، اور موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہم دونوں فریقین کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے فعال طور پر مصروف ہیں۔‘
بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور حالات کو معمول پر لانے کے بنیادی مقصد سے اتفاق کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہم سب کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایک اہم بین الاقوامی بحری راستہ ہے اور پاکستان مسلسل جہازوں اور عملے کی حفاظت، شہری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحالی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے، جب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ نے دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد کی اپیل دہرائی ہے۔
امریکہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ اسے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔
ترجمان طاہر اندرابی نے کہا: [یہ صورت حال دنیا بھر کے ممالک بشمول خطے کو متاثر کر رہی ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ اس لیے ہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور حالات کو معمول پر لانے کے بنیادی مقصد کو تسلیم کرتے ہیں۔‘
