پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے منگل کو وزیر پیٹرولیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے آٹھ اگست سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یہ ہڑتال ایسوسی ایشن کے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ڈیزل کی روزانہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کو فوری روکا جائے۔
انہوں نے اپنے مطالبات کے حوالے سے مزید بتایا کہ ’روزانہ کی بجائے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ بنیاد پر کیا جائے، ٹول ٹیکس میں بھی کمی کی جائے اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم کی جانب سے استعفیٰ دیا جائے۔‘
اس سے قبل اسلام آباد پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس میں گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہڑتال کے دوران ملک بھر میں تمام ٹرمینلز بند رہیں گے، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں مطالبات کی منظوری تک معطل رہیں گی۔
گڈز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تنظیم نے حکومت کے سامنے چھ مطالبات رکھے ہیں، جن میں ڈیزل کی قیمت میں فوری کمی، پٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف ٹیکسوں میں کمی، گڈز ٹرانسپورٹرز پر عائد سات فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر کے دو فیصد ٹرن اوور ٹیکس نافذ کرنا، ایکسل لوڈ سے متعلق قوانین پر نظرثانی، کسٹمز قوانین میں ترمیم اور گڈز ڈرائیوروں سے متعلق ایچ ٹی وی لائسنس کے اجرا کا عمل آسان بنانا شامل ہیں۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت فوری طور پر کم کی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات میں کمی آ سکے۔ اس کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں بھی کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تنظیم نے ایکسل لوڈ کے قوانین کو یکساں اور قابل عمل بنانے، اوورلوڈنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی اور کسٹمز قوانین میں فوری اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ کا شعبہ ملکی معیشت کے لیے اہم ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے باعث اس شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا تو 8 اگست سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کا مقصد نظام میں شفافیت لانا اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کا خاتمہ کرنا ہے، اور اس میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حالانکہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) لیوی کم کرنے پر آسانی سے راضی نہیں ہوتا، تاہم موجودہ پٹرولیم لیوی ماضی میں علاقائی جنگ یا بحران کے دوران عائد کی گئی لیوی سے اب بھی کم ہے۔
