موجودہ عالمی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی قانون کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ مخالفین کی علاقائی سالمیت کی غیر قانونی اور یکطرفہ خلاف ورزی معمول بن گئی ہے۔ ریاستوں کے اندر اور ان کے مابین مسلح تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
مہلک خودکار ٹیکنالوجیز نے دنیا کو ایسے خطرات سے دوچار کر دیا ہے جن کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ شدید قوم پرستی نے معاشروں کو تقسیم کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس بڑھتے ہوئے انتشار کے درمیان، عالمی کشمکش کے چار اہم میدانوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اول، مشرقی ایشیا، جو امریکہ اور چین کے درمیان مقابلے کا مرکزی میدان بن کر ابھرا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، ویتنام، فلپائن اور تائیوان (جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے) کے لیے کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤ آسان نہیں ہے۔
بحیرہ جنوبی چین، جہاں سے چین کی سمندری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، متعدد ممالک کے متضاد دعووں کی وجہ سے شدید تنازع کا شکار ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جاپان نے اپنی عسکری قوت میں اضافہ کرتے ہوئے کروز میزائل جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار حاصل کیے ہیں اور ڈرونز اور خودکار عسکری نظاموں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
دوم، امریکہ کے ساتھ ‘ٹرانس اٹلانٹک’ اتحاد کے کمزور پڑنے کے بعد یورپ نے بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ بیشتر یورپی ممالک نے اپنے فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ جرمنی اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 3.5 فیصد حصہ دفاع پر خرچ کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور یورپ کی سب سے بڑی روایتی عسکری قوت تشکیل دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ وہ جدید لڑاکا طیارے حاصل کر رہا ہے اور خلائی پروگراموں میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ دریں اثنا، روس-یوکرین جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔
سوم، مغربی ایشیا نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی ہولناک نسل کشی، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، شام کی گولان کی پہاڑیوں اور دیگر علاقوں پر قبضے، اور جنوبی لبنان پر بمباری کے واقعات دیکھے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو عدم استحکام اور عالمی معیشت کو دباؤ سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز بدستور شدید تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بحیرہ احمر کے ساحل پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ خلیجی ریاستیں، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے امریکہ کی عدم دلچسپی اور ناکامی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔ خلیجی خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ فی الحال نظر نہیں آ رہا۔
چہارم، جنوبی ایشیا میں انڈیا اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بھارت نے مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ کے نام سے ایک بڑی عسکری جارحیت کا ارتکاب کیا تھا، تاہم پاکستان نے اسے ناکام بنا دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی افغانستان میں موجود اپنے آلہ کار گروہوں، جیسے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے ، کے ذریعے ’آپریشن سندور‘ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس ہنگامہ خیز اور پیچیدہ دنیا میں، عالمی جغرافیائی سیاست پر اثر ڈالنے والے تین اہم کرداروں کو سمجھنا ضروری ہے: صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ عالمگیریت (گلوبلائزیشن) نے امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے محصولات کی جنگوں (ٹیرف وارز) کا راستہ اختیار کیا ہے اور مغربی نصف کرہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ملکی سطح پر، ٹرمپ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کے مخالف ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک مینوفیکچرنگ کا مرکز بنے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نئی زندگی ملے۔ ان کے ناقدین انہیں خود پسند اور سفید فام بالادستی کا حامی قرار دیتے ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے کئی اقدامات کے، بشمول ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ جس کے تحت 150 سے زائد ممالک میں سرمایہ کاری کی گئی ہے ذریعے عالمی سطح پر چین کی موجودگی کو نمایاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین عالمگیریت اور باہمی انحصار کے ایک بڑے حامی کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے موجودہ بین الاقوامی نظام کی پانچ بڑی کمزوریوں (امن، ترقی، سلامتی، حکمرانی اور اعتماد) کو دور کرنے کے لیے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ چین کا ماننا ہے کہ مشترکہ مفادات کی حامل عالمی برادری کی تشکیل کے لیے پرامن بقائے باہمی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
روس کے صدر پوتن نے مشرق کی جانب توجہ دینا شروع کی ہے اور 2016 میں ‘گریٹر یوریشین سٹریٹجک پارٹنرشپ’ (عظیم یوریشیائی سٹریٹجک شراکت داری) کا منصوبہ پیش کیا؛ اس اقدام نے چین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بحر الکاہل اور بحر ہند کے طویل اور مشکل راستوں کے متبادل کے طور پر یوریشیا میں زمینی راستے تعمیر کرے۔ روس اور چین کئی عالمی معاملات پر ہم آہنگ ہیں، جو مغربی دنیا کے نقطہ نظر کے لیے ایک چیلنج ہے۔
یہ انتشار کی شکار دنیا کس سمت جا رہی ہے؟ نئے عالمی نظام کے ارتقاء کے حوالے سے کئی ممکنہ صورت حال ہو سکتی ہیں۔ کیا امریکہ اور چین ایک نئی سرد جنگ میں الجھ جائیں گے؟ کیا دنیا بکھری رہے گی اور کوئی بھی طاقت عالمی معاملات کو سٹریٹجک سمت دینے کے قابل نہیں رہے گی؟ یا پھر دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی؟
ان تمام امکانات کو بظاہر رد کیا جا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ ممکنہ اور مرغوب صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ بڑی طاقتیں اجتماعی سلامتی پر بین الاقوامی اتفاق رائے کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کے دائرہ کار کو وسیع کریں۔ یہ ماڈل بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم کی راہ ہموار کر سکتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر سے ملتے جلتے اصولوں پر استوار ہے۔
عالمی انتشار جنوبی ایشیا کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟ عالمی جغرافیائی سیاست میں حالیہ سٹریٹجک تبدیلیوں نے انڈیا کو مایوس کیا ہے، جس نے اپنی خارجہ پالیسی کو امریکہ کی قیادت میں ‘انڈو پیسیفک سٹریٹجی’، ‘کواڈ’ (آسٹریلیا، انڈیا، جاپان، امریکہ) اور ‘آئی ٹو یو ٹو’ (انڈیا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، امریکہ) سے ہم آہنگ کیا تھا۔ انڈیا یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہا کہ امریکہ اور چین کبھی پرامن مسابقت کے لیے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے پر متفق ہو سکتے ہیں۔ نہ ہی اس نے مئی 2025 کے بعد پاکستان کی عسکری حیثیت میں نمایاں اضافے اور ایران-امریکہ جنگ کے دوران اس کے سفارتی قد کاٹھ میں اضافے کی توقع کی تھی۔
پاکستان کو تنہا کرنے کی انڈیا کی دہائیوں پر محیط کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مودی حکومت ان عالمی رجحانات کو تسلیم کرے گی اور چین و پاکستان کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے گی یا نہیں۔
انڈیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بالادستی کا رویہ عالمی سطح پر ناکام ہو چکا ہے اور علاقائی سطح پر بھی ناکام رہے گا۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ’جیو اور جینے دو‘ کے اصول پر عمل کرنا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اس نے علاقائی امن و استحکام کے لیے چین، امریکہ، روس اور مغربی ایشیا کے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رکھے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے ثالثی کردار نے اس کی ساکھ اور اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان نے سب کے لیے اجتماعی سلامتی کے تصور کی بھی تائید کی ہے۔ یہ تصور بالادستی اور غلبے کے مغربی نظریات کی نفی کرتا ہے اور ایک ایسے نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھتا ہے جو اجتماعی و باہمی تعاون پر مبنی سلامتی اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے باہمی احترام کے اصولوں پر استوار ہو۔
پاکستان کو انڈیا کی جانب سے کسی ممکنہ مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انڈیا کی دشمنی کے باوجود، پاکستان کو انڈیا کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں اور ساتھ ہی آنے والے برسوں میں بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی دفاعی صلاحیت کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ علاقائی سطح پر، چونکہ انڈیا نے ‘سارک’ کو غیر فعال کر دیا ہے، اس لیے پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر جنوبی ایشیا میں ایک نیا گروپ تشکیل دے سکتے ہیں جس میں چین مکمل رکن کے طور پر شامل ہو۔
اپنی سفارتی اور عسکری حیثیت کو مستحکم کرنے کے بعد، پاکستان کو اب اپنی معاشی طاقت بڑھانے کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور فوری نتائج دینے والے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے، جیسے کہ شمسی توانائی پر زیادہ انحصار، آئی پی پیز کے لیے کوئی حل، مال برداری کے لیے ریلوے کو ترجیح دینا اور پاکستانی بندرگاہوں کو ٹرانس شپمنٹ کے مراکز بنانا، بالکل اسی طرح جیسے دہائیاں قبل ہوا کرتا تھا۔
مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ’ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
