سوات کے نوجوان کا لکڑی پر تصاویر تراشنے کا منفرد ہنر

سوات کے نوجوان نعمان سعید گذشتہ سات، آٹھ برس سے لکڑی پر مختلف شخصیات کی تصاویر تراشنے کا منفرد ہنر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے یہ کام صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا شوق اور ہنر ہے جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملا۔

نعمان سعید بتاتے ہیں کہ ان کے والد خان سعید  بھی ایک ماہر کاریگر ہیں اور لکڑی پر کام کرنے کا یہ ہنر انہوں نے اپنے والد ہی سے سیکھا۔

نعمان سعید عموماً دیار کی لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لکڑی کو تصویر بنانے کے قابل بنانے کے لیے پہلے اسے کئی ماہ تک خشک کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد لکڑی کی صفائی کی جاتی ہے۔ اس پر تصویر کی ڈرائنگ بنائی جاتی ہے اور پھر مختلف اوزاروں کی مدد سے اسے تراش کر تصویر کی شکل دی جاتی ہے۔

نعمان کے مطابق ایک تصویر مکمل کرنے میں عموماً 10 سے 15 دن لگتے ہیں، تاہم لکڑی کو خشک کرنے کا مرحلہ اس سے کہیں زیادہ وقت لیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ بہت مشکل  کام ہے۔ پہلے لکڑی پر ڈرائنگ بناتا ہوں، پھر اسی ڈرائنگ کے مطابق تصویر تراشتا ہوں۔ ایک تصویر مکمل کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں، لیکن جب تصویر مکمل ہوتی ہے تو بہت خوشی ہوتی ہے۔‘

اب تک نعمان سعید 50 سے زیادہ تصاویر بنا چکے ہیں۔ ان کے کام میں پاکستان کی معروف شخصیات کے علاوہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے علامہ محمد اقبال، قائداعظم اور دیگر شخصیات کی تصاویر لکڑی پر تراشی ہیں، جب کہ بیرونِ ملک سے بھی انہیں مختلف شخصیات کی تصاویر بنانے کے آرڈرز موصول ہوتے رہے ہیں۔

ابتدا میں نعمان یہ کام صرف شوق کے طور پر کرتے تھے، تاہم سوشل میڈیا نے ان کے اس ہنر کو وسیع حلقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بنائی ہوئی ایک تصویر کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کی جو بعد میں وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو کے ذریعے لوگوں کو ان کے منفرد ہنر کے بارے میں معلوم ہوا اور اس کے بعد انہیں مختلف شہروں سے آرڈرز ملنا شروع ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان سے زیادہ تر تصاویر تحفے کے طور پر بنواتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے والدین یا بچوں کی تصاویر بنواتے ہیں جب کہ بعض افراد اپنے دوستوں، اساتذہ، باس یا دیگر قریبی لوگوں کے لیے خصوصی تحفے کے طور پر لکڑی پر تصاویر تیار کراتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’زیادہ تر لوگ یہ تصاویر گفٹ کے لیے بنواتے ہیں۔ کسی کو اس کے والدین کی تصویر تحفے میں دینی ہوتی ہے یا کسی خاص شخصیت کی تصویر بنوانی ہوتی ہے۔ لوگ ان تصاویر کو اپنے گھروں اور دفاتر میں بھی سجاتے ہیں۔‘

نعمان کا کہنا ہے کہ لکڑی پر تصویر بنانے کی خاص بات حقیقی سے قریب تر شکل اور منفرد انداز ہے۔ ان کے مطابق لکڑی پر ہاتھ سے بنائی گئی تصویر کا احساس عام پرنٹ شدہ تصویر سے مختلف ہوتا ہے۔

ان کے لیے یہ ہنر صرف ایک فن نہیں بلکہ آمدن کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ وہ نوجوانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر موجود صلاحیت اور ہنر کو معمولی نہ سمجھیں۔

’نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے ہنر کی قدر کریں اور اپنے ہنر سے محبت کریں۔ ہنر ایک بہت اچھی چیز ہے۔ اگر آپ اپنے ہنر کو محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھائیں تو یہی ہنر آپ کے لیے رزق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *