نیپالی شرپا نے 32ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

نیپال کے معروف شرپا گائیڈ  کامی ریتا شرپا نے ایک بار پھر تاریخ رقم کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو ریکارڈ 32ویں مرتبہ سر کر کے اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنا دیا۔

56  سالہ کامی ریتا شرپا نے اتوار  کو غیر ملکی کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرتے ہوئے 8,849 میٹر بلند چوٹی کامیابی سے سر کی۔ نیپال کے محکمۂ سیاحت نے اس کامیابی کو ’تاریخی سنگِ میل‘ قرار دیتے ہوئے پہاڑیوں کی سیاحت کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہا۔

یہ مہم مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 12 منٹ پر مکمل ہوئی۔

دوسری جانب نیپالی شرپا خاتون  لکھپا شرپا  نے بھی اہم کارنامہ انجام دیتے ہوئے 11ویں مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کی، جو کسی بھی خاتون کی جانب سے سب سے زیادہ بار اس چوٹی کو سر کرنے کا ریکارڈ ہے۔

 کامی ریتا شرپا کا تعلق نیپال کے ضلع سولوکھمبو کے گاؤں تھامے سے ہے، جو اسی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں سے مشہور کوہ پیما تینزنگ نور کا تعلق تھا۔ ٹینزنگ نورگے نے ایڈمنڈ ہلیری کے ساتھ مل کر 1953 میں پہلی مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کی تھی۔

کامی ریتا نے پہلی بار 1994 میں ایورسٹ سر کیا تھا، اور اس کے بعد تقریباً ہر سال یہ کارنامہ انجام دیا، سوائے 2014، 2015 اور 2020 کے، جب مختلف وجوہات کی بنا پر ایورسٹ مہمات معطل تھیں۔ بعض برسوں میں انہوں نے ایک ہی سال میں دو مرتبہ بھی چوٹی سر کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ ان متعدد شرپا گائیڈز میں شامل ہیں جن کی مہارت اور تجربہ ہر سال غیر ملکی کوہ پیماؤں کی حفاظت اور کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کے والد بھی ابتدائی شرپا ماؤنٹین گائیڈز میں شامل تھے۔ کامی ریتا نے ایورسٹ کے علاوہ دنیا کی دیگر بلند چوٹیوں جیسے   کے ٹو_،_  چو اویو ، مناسلو اور  لوتسے کو بھی سر کیا ہے۔

1953 میں پہلی کامیاب مہم کے بعد اب تک 8 ہزار سے زائد افراد ماؤنٹ ایورسٹ سر کر چکے ہیں، جن میں سے کئی نے متعدد بار یہ کارنامہ انجام دیا۔

غیر شرپا کوہ پیماؤں میں یہ ریکارڈ برطانوی گائیڈ کینٹن کول کے پاس ہے، جو 19 مرتبہ ایورسٹ سر کر چکے ہیں، جبکہ امریکی کوہ پیما ڈیو ہان اور گیریٹ میڈیسن 15، 15 مرتبہ یہ چوٹی سر کر چکے ہیں۔

کینٹن کول اور گیریٹ میڈیسن اس وقت بھی ایورسٹ پر موجود ہیں تاکہ اپنے ریکارڈ مزید بہتر بنا سکیں۔

ایورسٹ اور دیگر بلند چوٹیوں پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرنا شرپا برادری کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر سولوکھمبو ضلع کے مقامی خاندانوں کے لیے جہاں ماؤنٹ ایورسٹ واقع ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *