قبرص: اسرائیلی فوج نے غزہ جانے والے امدادی بیڑے کی متعدد کشتیوں کو روک لیا

اسرائیلی فوج نے پیر کو قبرص کے ساحل کے قریب ان کشتیوں کو روک لیا جو غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی امدادی بحری بیڑے کا حصہ تھیں۔

’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ نامی تنظیم کے مطابق 50 سے زائد کشتیاں گذشتہ ہفتے ترکی کے شہر مارمارس کی بندرگاہ سے غزہ کی جانب روانہ ہوئی تھیں۔ تنظیم نے اسے غزہ تک پہنچنے کی مہم کا آخری مرحلہ قرار دیا تھا۔

تنظیم کی لائیو نشریات میں دیکھا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں کی کشتی قریب آنے پر کارکنوں نے لائف جیکٹس پہن لیں اور ہاتھ بلند کر دیے۔ بعد ازاں اسرائیلی اہلکاروں نے جہاز پر چڑھائی کی جس کے فوراً بعد لائیو نشریات بند ہو گئیں۔

تنظیم کے مطابق ابتدائی تین گھنٹوں میں کم از کم 17 کشتیوں کو روک لیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل دور بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کی۔ اس بار ماضی کے برعکس دن کی روشنی میں کشتیوں پر چڑھائی کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل 2007 سے غزہ پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جب حماس نے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

حماس نے اسرائیلی کارروائی کو ’کھلی بحری قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کشتیوں میں موجود کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

تنظیم کے مطابق اس مہم میں 45 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 کارکن شریک ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی اسرائیلی فورسز نے یونان کے قریب 20 سے زائد کشتیوں کو روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے کر بعد میں ملک بدر کر دیا تھا۔

فلوٹیلا منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ میں انسانی بحران اور وہاں کے دو ملین سے زائد رہائشیوں کو درپیش خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *