جب بھی فراری اپنی گاڑیوں کے ڈیزائن کے لیے بیرونی مدد حاصل کرتی ہے تو عموماً وہ اٹلی کے مشہور ڈیزائن ہاؤسز کی طرف دیکھتی ہے، جن میں سب سے نمایاں پینن فارینا ہے جبکہ برتونے اور دیگر ادارے بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
تاہم گذشتہ 16 برسوں سے فراری کی تمام گاڑیوں کا ڈیزائن اس کے اپنے سٹائلنگ سینٹر میں تیار کیا جا رہا ہے، جس کے سربراہ سابق فیئٹ اور ووکس ویگن ڈیزائن چیف فلاویو مانزونی ہیں۔
اس عرصے میں فراری کی کئی مشہور گاڑیاں سامنے آئیں، جن میں سے ہر ایک اپنے پیش رو سے زیادہ خوبصورت تھی اور بانی اینزو فراری کے اس وژن پر قائم تھی کہ دنیا کی تیز ترین اور خوبصورت ترین گاڑیاں بنائی جائیں۔
نئی فراری کا تصور جتنا بھی رومانوی کیوں نہ ہو، دنیا کی سب سے مشہور سپورٹس کار کمپنی بھی برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتی۔
اس سے پہلے ہم برقی طاقت سے چلنے والی فراریاں دیکھ چکے ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمیشہ کچھ نہ کچھ روایتی بھی موجود رہا جیسا کہ ایک شور مچاتا ہوا انجن، دلکش آواز اور تھوڑی سی پٹرول کی خوشبو۔
فراری نے کافی عرصہ پہلے مکمل طور پر برقی ماڈل بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا، جیسا کہ تقریباً ہر بڑی آٹو کمپنی نے کیا۔
مگر فراری لوچے مختلف ہونے والی تھی۔ یہ وہ گاڑی تھی جس کا ڈیزائن فراری سے باہر ایک ایسی کمپنی تیار کرنے والی تھی جس نے اس سے پہلے کبھی کوئی کار ڈیزائن نہیں کی تھی۔ ماما میا!
لو فرام نامی کمپنی 2019 میں سابق ایپل ڈیزائنرز جانی آئیو اور مارک نیوزن نے قائم کی تھی۔
جانی آئیو نے 23 سال تک ایپل کی تقریباً ہر بڑی پروڈکٹ کے ڈیزائن کی نگرانی کی جبکہ مارک نیوزن ایپل میں شمولیت سے بہت پہلے دنیا کے بااثر ترین صنعتی ڈیزائنرز میں شمار ہوتے تھے۔
ایپل میں انہوں نے ایپل واچ کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا اور ممکنہ طور پر ایپل کے ناکام کار پراجیکٹ ’ٹائٹن‘ پر بھی کام کیا۔
جب یہ اعلان ہوا کہ لو فرام فراری کے سینٹرو سٹائل کے ساتھ مل کر پہلی مکمل برقی فراری تیار کرے گی تو کئی لوگوں نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا۔
تاہم جب لوچےکے اندرونی حصے کی ابتدائی تصاویر جاری ہوئیں تو بہت سے ناقدین خاموش ہو گئے۔
یہ ایک نفیس، صاف ستھرا اور شاندار صنعتی ڈیزائن تھا جس میں جدید سطحیں، مکینیکل سوئچز اور واضح گرافکس شامل تھے — بالکل جانی آئیو کے انداز میں۔ مجھے یہ بہت پسند آیا لیکن ایک شرط کے ساتھ۔
میرے خیال میں یہ افسوس ناک ہے کہ وہ شخص جس نے ایپل کے ذریعے ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچایا، اس نے فراری کے ساتھ کام کرنا پسند کیا۔
ایپل میں جانی آئیو کے کام سے کتنے لوگ مستفید ہوئے؟ اربوں۔ اور فراری میں ان کے کام سے کتنے لوگ فائدہ اٹھائیں گے؟ شاید چند ہزار۔
میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ لو فرام کو فراری کی بجائے کسی ایسی کمپنی کے ساتھ کام کرنا چاہیے تھا جیسے ووکس ویگن، حالانکہ ان کے پاس پیشکشوں کی کمی یقیناً نہیں ہوگی۔
لوچے کے انٹیریر ڈیزائن نے شوق اور توقعات کو بڑھا دیا تھا لیکن جب خود گاڑی منظر عام پر آئی تو فراری کے شیئرز کی قیمت گر گئی۔
کیا فراری کے روایتی خریدار مکمل برقی ماڈل کے منتظر تھے؟ شاید نہیں۔ کیا ایک نئی قسم کے خریدار، خاص طور پر مشرقی منڈیوں سے تعلق رکھنے والے، لوچے میں زیادہ دلچسپی لیں گے؟ ممکن ہے۔
آئیے پہلے ڈیزائن کی بات کرتے ہیں۔ گاڑی کا اگلا حصہ کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے، شیشوں کا حصہ کچھ زیادہ ابھرا ہوا ہے، اور پچھلا حصہ بھی اتنا آسانی سے ہضم نہیں ہوتا حالانکہ دعویٰ یہ ہے کہ یہ پرانی فراریوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مجھے یہ صنعتی ڈیزائن کے اعتبار سے ایک شاندار تخلیق لگتی ہے اور جانی آئیو اور مارک نیوزن سے اس سے کم کی توقع بھی نہیں تھی۔ لیکن یہ فراری نہیں لگتی۔
اگر یہی ڈیزائن کسی نئی چینی برقی گاڑی کے برانڈ کا ہوتا یا کیا یا ہیونڈے کی نئی ڈیزائن زبان کا حصہ ہوتا تو میں اسے ایک شاندار اور ذہین تخلیق قرار دیتا۔
لیکن کیا یہ اینزو فراری کے خواب کے مطابق دنیا کی خوبصورت ترین گاڑی ہے؟ ہرگز نہیں۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ٹیکنالوجی مخالف یا قدامت پسند ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں مکمل طور پر برقی فراری کے حق میں ہوں۔
اس کی کارکردگی اور طاقت کی فراہمی یقیناً اسے دنیا کی تیز ترین گاڑیوں میں شامل کر سکتی ہے، جیسا کہ اینزو فراری چاہتے تھے۔ لیکن یہ ایک فراری ہے — اسے خوبصورت بھی ہونا چاہیے۔
آپ کو اس کی دلکش لکیروں کو دیکھ کر حیرت ہونی چاہیے، اٹلی کی خوبصورت سڑکوں پر اس کی تصاویر دیکھ کر مسحور ہونا چاہیے اور کسی فٹ پاتھ کیفے میں ایسپریسو پیتے ہوئے تصور کرنا چاہیے کہ یہ گاڑی خاموشی سے آپ کے سامنے سے گزر رہی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مجھے یقین نہیں کہ لوچے ایسا تاثر دے پاتی ہے، خاص طور پر جب اس کا وزن 2.2 ٹن ہو۔
فراری آٹو موبائل دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور اس کی تاریخ بے مثال ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور یہی کام چینی کمپنی بی وائی ڈی اپنی Yangwang U9 کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔
یہ گاڑی اس وقت دنیا کی تیز ترین پروڈکشن کار ہونے کا اعزاز رکھتی ہے، جس نے سرکاری ٹیسٹوں میں 308 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔
میں گذشتہ ہفتے چین میں بی وائی ڈی کے ساتھ تھا، جہاں میری ملاقات کمپنی کی ایگزیکٹیو نائب صدر سٹیلا لی سے ہوئی۔ میں نے ان سے فراری لوچے کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے جواب دیا ’یہ بہت دلچسپ ہے۔ ذاتی طور پر میرے ذوق کے مطابق، میں انٹرنیٹ پر لوگوں کے تبصروں سے کافی حد تک اتفاق کرتی ہوں۔
’میں بہت سے لوگوں سے متفق ہوں۔ مجھے یہ گاڑی پسند ہے لیکن میں U9 کو ترجیح دیتی ہوں — U9 اس سے کہیں بہتر ہے۔‘
شاید Yangwang U9 کے نام میں ابھی وہ وقار اور کشش نہیں جو فراری لوچے کے نام میں موجود ہے لیکن یہ اینزو فراری کے اس خواب کے زیادہ قریب دکھائی دیتی ہے کہ دنیا کی تیز ترین اور خوبصورت ترین گاڑیاں بنائی جائیں۔
اور ہو سکتا ہے کہ بی وائی ڈی نے وہ برقی ’فراری‘ بنا دی ہو جو خود فراری نہ بنا سکی۔
