خلائی تحقیق کا امریکی ادارہ ناسا چاند پر آگ جلانا چاہتا ہے۔ جی ہاں واقعی۔
اگر یہ تجربہ کیا گیا تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب انسان کسی دوسری دنیا پر آگ جلائے گا۔
خلائی ادارے کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ بہتر طور پر سمجھنا ہے کہ مستقبل میں مریخ اور اس سے آگے انسانوں کو لے جانے والے آرٹیمس پروگرام کے مشنوں میں کسی ہنگامی صورت حال کے دوران آگ کے شعلے کس طرح پھیل سکتے ہیں۔ ان مشنوں سے انسان کی رسائی مزید دور تک بڑھے گی اور ہمیں اپنے نظام شمسی کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملے گی۔
ناسا نے ’چاند پر مواد کے آتش گیر ہونے‘ کے تجربے، جسے ’ایف ایم 2‘ کہا جاتا ہے، کے ویب پیچ پر کہا کہ ’چوں کہ آگ خلائی سفر اور انسان کی انتہائی دشوار مہمات کے لیے تباہ کن خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ایف ایم ٹو مستقبل کے مشنوں میں مختلف مواد کے آگ پکڑنے کی صلاحیت جانچنے اور حفاظت یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘
ناسا کے مطابق ایک مسئلہ یہ ہے کہ کچھ مواد جو زمین پر آگ نہیں پکڑتے، وہ خلا میں آگ پکڑ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کی کشش ثقل میں یہ مواد زمین کے مقابلے میں آکسیجن کی کم مقدار میں بھی جل سکتا ہے۔
تجربے کی پروجیکٹ منیجر ایملی جانسن نے 2025 کے ایک پوڈکاسٹ میں وضاحت کی کہ ’مثال کے طور پر کچھ مواد جلتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں الگ ہونے لگتے ہیں، جو تقریبا آنسو کے قطروں جیسے ہوتے ہیں۔ اگر آپ بہت کم یا جزوی کشش ثقل والے ماحول میں ہوں تو یہ چھوٹے قطرے آگ کے چھوٹے گولوں میں بدل سکتے ہیں۔ یہ تیرتے ہوئے دور جا سکتے ہیں اور کسی دوسری چیز کو آگ لگا سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس لیے مختلف شدت کے شعلوں میں مختلف مواد کی خصوصیات کو سمجھنا بھی بے حد اہم ہے۔‘
چاند پر شعلے زمین کے مقابلے میں مختلف انداز سے برتاؤ کرتے ہیں۔ زمین پر شعلے کی عام شکل اس وقت بنتی ہے جب کشش ثقل ٹھنڈی اور زیادہ کثیف ہوا کو نیچے کھینچتی ہے۔ چاند یا بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے بے وزنی جیسے انتہائی کم کشش ثقل والے ماحول میں شعلوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
ناسا کی 2023 کی ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق، ’انتہائی کم کشش ثقل میں ہوا کا یہ بہاؤ نہیں ہوتا اور خلائی سٹیشن پر کم رفتار سے جلنے والے شعلے عموما گول یا مکمل کرہ نما ہوتے ہیں۔‘
چاند کی کشش ثقل زمین کی کشش ثقل کے تقریبا چھٹے حصے کے برابر ہے، اس لیے وہاں شعلے زمین کے مقابلے میں قدرے زیادہ گول ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ تجربہ حقیقت میں کیسا ہوگا؟ اچھی بات یہ ہے کہ کوئی بڑی آگ نہیں جلائی جا رہی۔
اس کے بجائے سائنس دان ایک خودکار اور مکمل طور پر بند آتش خانہ چاند کی سطح پر بھیج رہے ہیں۔ یہ دھات کا ایک بیلن نما خانہ ہے جسے تجارتی سامان لے جانے والے مشن کے ذریعے چاند پر پہنچایا جائے گا۔
اس خانے میں جلانے کے لیے چار نمونے رکھے گئے ہیں، جو روئی، فائبر گلاس اور ایکریلک کی سلاخوں سے بنے ہیں۔
اس میں آکسیجن ناپنے والا سینسر، برقی مقناطیسی شعاعوں کی پیمائش کرنے والا آلہ اور کیمرے نصب ہیں۔ یہ کیمرے ریکارڈ کریں گے کہ چاند کی کشش ثقل میں آگ کس طرح جلتی اور کتنی تیزی سے پھیلتی ہے۔
گذشتہ چند دہائیوں کے دوران زمین پر انتہائی کم کشش ثقل میں آگ کے بہت سے تجربات کیے گئے ہیں، لیکن ان تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ ناسا کو مزید معلومات کی ضرورت ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ناسا کے محققین نے قبل ازیں رواں سال شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ ’چاند پر مواد کے آگ پکڑنے کی صلاحیت جانچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہاں براہ راست تجربات کیے جائیں۔ وہاں مختلف مواد کی جانچ کے لیے تجربات کا ایک جامع سلسلہ مثالی ہوگا، لیکن ایسے تجربات اس وقت تک ملتوی کرنا ہوں گے جب تک چاند پر انسانوں کا طویل قیام ممکن نہیں ہو جاتا۔‘
ناسا کے محققین نے اس سال کے اوائل میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا، ’چاند پر مواد کے آگ پکڑنے کی صلاحیت جانچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہاں براہ راست تجربات کیے جائیں۔ وہاں مختلف مواد کی جانچ کے لیے تجربات کا ایک جامع سلسلہ مثالی ہوگا، لیکن ایسے تجربات اس وقت تک ملتوی کرنا ہوں گے جب تک چاند پر انسانوں کا طویل قیام ممکن نہیں ہو جاتا۔‘
مقالے کے مطابق نئے تجربے سے خلائی جہازوں میں آگ سے حفاظت کے بارے میں اہم معلومات کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی۔
نئی تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر خلائی جہازوں میں استعمال ہونے والے مواد کے معیار تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
مقالے کے مطابق یہ مشن اسی سال کے آخر تک روانہ کیا جا سکتا ہے۔
