بلوچستان کے علاقے خاران میں تھانے پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے بعد صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا اور شہر مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی نے اتوار کو کہا کہ ’خاران میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے حملہ آوروں کی کارروائی ناکام بنا دی گئی اور واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سکیورٹی فورسز نے ایک روز قبل نوشکی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں ایک مبینہ خودکش حملہ آور سمیت سات حملہ آوروں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
خاران کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس حملہ آور شہر میں داخل ہوئے اور سٹی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانوں پر حملہ کیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور دونوں تھانوں میں داخل ہوئے، سرکاری ریکارڈ کو آگ لگا دی اور تھانے میں موجود سرکاری گاڑیوں کو فائرنگ کر کے نقصان پہنچایا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں ایک گھر پر فائرنگ سے چار خواتین اور ایک بچہ زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق حملہ آور کچھ دیر شہر میں موجود رہے، تاہم سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کر کے علاقے کو محفوظ قرار دے دیا۔
دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی، مستونگ اور خاران میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری ہیں، جن کے دوران متعدد مبینہ ٹھکانے تباہ کیے گئے اور اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نوشکی میں کامیاب انٹیلی جنس آپریشن کو دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
خاران حملے کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگست کے دوران حملوں کے خدشات کے پیش نظر تمام افسران کو اپنے علاقوں میں موجود رہنے اور ہر وقت الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو بھی غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔
