والدہ کے ’زندہ ہونے کا ثبوت‘ دیا جائے، آنگ سان سوچی کے بیٹے کا مطالبہ

میانمار کی سابق رہنما آنگ سان سوچی کی خیریت کے بارے میں خدشات بدستور برقرار ہیں، کیونکہ انہیں گھر میں نظر بند کیے جانے کو دو ہفتوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔

ان کے بیٹے کم ایریس نے میانمار کی نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’زندہ ہونے کا ثبوت‘ پیش کرے۔

30 اپریل کو سرکاری میڈیا نے ایک تصویر جاری کی تھی جس میں آنگ سان سوچی لکڑی کی بینچ پر بیٹھی دو نامعلوم وردی پوش اہلکاروں سے بات کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ تاہم بعد میں اس تصویر کی حقیقت پر سوالات اٹھائے گئے۔ پیر کے روز ان کے بیٹے کم ایریس نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ حکام یہ ثابت کریں کہ ان کی والدہ زندہ ہیں۔

آنگ سان سو چی کو فروری 2021 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب فوج نے ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئیں، اور ان کی آخری سرکاری تصویر مئی 2021 میں عدالت میں پیشی کے دوران لی گئی تھی۔

48  سالہ کم ایریس نے فیس بک پر لکھا:’آج میں برطانیہ کی پارلیمنٹ کے سامنے اپنی والدہ، ڈاؤ آنگ سان سوچی، اور برما کے تمام سیاسی قیدیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے حامیوں کے ساتھ شامل ہوا۔ فوجی بغاوت کو پانچ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، مگر اب تک کوئی معتبر اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت موجود نہیں کہ میری والدہ زندہ ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میری 81 سالہ والدہ، جو نوبیل امن انعام یافتہ ہیں، کو ایک خفیہ مقام سے دوسرے خفیہ مقام منتقل کرنا آزادی نہیں۔ وہ اب بھی یرغمال ہیں۔ زندہ ہونے کا ثبوت دکھائیں۔‘

کم ایریس نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ حامیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی والدہ کے بارے میں معلومات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ’ہم یہاں ایک سادہ، فوری اور انسانی مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میری والدہ ڈاؤ آنگ سان سوچی اب بھی زندہ ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جب حکام نے اعلان کیا کہ آنگ سان سوچی کو خفیہ جیل سے گھر میں نظر بندی میں منتقل کیا گیا ہے تو ’وہ چاہتے تھے کہ دنیا اس معاملے کو بھول جائے۔‘

کم ایریس کے مطابق ’اس کے بعد سے ہم مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ وہ کہاں ہیں، ان کی حالت کیسی ہے اور کیا وہ محفوظ ہیں۔‘

آنگ سان سوچی کو ایک بدھ مذہبی تہوار کے موقع پر دی گئی عام معافی کے تحت جیل سے گھر میں نظر بندی پر منتقل کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ ’وہ اب اپنی سزا کا باقی حصہ جیل کے بجائے ایک مخصوص گھر میں گزاریں گی‘ تاہم مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔

اس معافی کے تحت 1500 سے زائد قیدیوں کو رہا کیا گیا جبکہ کئی دیگر کی سزاؤں میں کمی کی گئی۔ میانمار میں مذہبی تہواروں اور اہم مواقع پر قیدیوں کو عام معافی دینا عام بات ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی دوران سابق صدر ون منتھ  کو بھی رہا کر دیا گیا، جو آنگ سان سو چی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور انہیں بھی انہی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب فوجی جنرل من آنگ ہیلنگ جنہوں نے 2021 کی بغاوت کی قیادت کی تھی، 10 اپریل کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ناقدین کے مطابق انتخابات اس طرح ترتیب دیے گئے تھے کہ فوج کی طاقت برقرار رہے۔

اپنی حلف برداری کی تقریر میں صدر نے کہا کہ حکومت سماجی مفاہمت، انصاف اور امن کے فروغ کے لیے قیدیوں کو معافی دے گی۔

آنگ سان سوچی کو 2022 میں مختلف الزامات کے تحت مجموعی طور پر 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے حامیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات فوجی قبضے کو جائز ثابت کرنے اور انہیں سیاست میں واپسی سے روکنے کی کوشش تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس  نےآنگ سان سو چی کی منتقلی کو ’ایک معتبر سیاسی عمل کے لیے سازگار حالات کی جانب اہم قدم‘ قرار دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *