جس وقت پاکستان اور سری لنکا شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں 2014 میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری مقابلے میں آمنے سامنے آ رہے ہیں، اسی وقت پاکستان کے معروف فری لانس کرکٹ صحافی قمر احمد اپنی شان دار پیشہ ورانہ زندگی کا ایک منفرد سنگِ میل عبور کر رہے ہیں۔ وہ اپنے کیریئر کے 400ویں ٹیسٹ میچ کی کوریج کر رہے تھے۔
سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور سپورٹس صحافی قمر احمد جمعرات کو کراچی میں 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اگرچہ ان کا انتقال پاکستان میں ہوا، لیکن گزشتہ 44 برسوں سے انگلینڈ ان کا مستقل مسکن تھا۔
ان کی نماز جنازہ مسجد بیت السلام کے فیز IV میں مغرب کی نماز کے بعد ادا کی گئی۔ مرحوم کو 2 جون کو دل کے مسائل کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں ان کی اینجیوپلاسٹی کی گئی تھی۔
ان کی نماز جنازہ مسجد بیت السلام کے فیز IV میں مغرب کی نماز کے بعد ادا کی گئی۔ جب اس ماہ کے شروع میں ڈان نے ان سے رابطہ کیا تو قمر نے کہا کہ انہیں 2 جون کو دل کے مسائل کے بعد کراچی میں اسپتال میں داخل کیا گیا، اس لیے انہوں نے اینجیوپلاسٹی کروائی جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں آرام کرنے کا مشورہ دیا۔
ایک مرتبہ جب روزنامہ ڈان نے ان سے پوچھا کہ فرسٹ کلاس سطح پر کرکٹ کھیلنے کے بعد وہ کرکٹ صحافت میں کیسے آئے، تو قمر احمد نے بتایا: ’طالب علمی کے زمانے میں میں ڈان میں آسٹریلوی آل راؤنڈر کیتھ ملر کا کالم پڑھا کرتا تھا، جس سے مجھے کرکٹ پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ بعد ازاں حیدرآباد سے انگریزی اخبار انڈس ٹائمز جاری ہوا، اور اس کے سپورٹس ایڈیٹر ایچ ایم ایس بیگ نے مجھ سے کھیلوں اور کرکٹ پر مضامین لکھنے کو کہا۔ یوں میری صحافتی زندگی کا آغاز ہوا۔‘
اس وقت وہ سندھ یونیورسٹی میں ایم اے انگلش لٹریچر کے طالب علم تھے اور کسی اخبار میں لکھنا ان کے لیے نہایت دلچسپ تجربہ تھا۔ بعد میں انہیں خبر رساں ادارے پی پی آئی کے حیدرآباد دفتر کا انچارج مقرر کیا گیا۔ یہ ادارہ پہلی بار اس شہر میں قائم ہوا تھا، جہاں ان کا خاندان ہجرت کے بعد انڈیا سے آ کر آباد ہوا تھا۔
انہوں نے 1961 سے 1963 تک پی پی آئی میں کام کیا، اور یہی ان کی صحافت میں پہلی اور آخری ملازمت ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ فری لانس صحافی رہے۔ اسی دوران وہ فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیل رہے تھے۔
سینیئر سپورٹس صحافی نے اپنے کیریئر کے آغاز کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں نہ انٹرنیٹ تھا اور نہ آج جیسی جدید سہولتیں۔ میچوں کی رپورٹنگ انتہائی دشوار کام تھی کیونکہ مواصلاتی ذرائع محدود تھے۔ نہ ڈائریکٹ ڈائلنگ کی سہولت موجود تھی، نہ ای میل اور نہ انٹرنیٹ؛ صرف ٹیلیکس کے ذریعے خبریں بھیجی جا سکتی تھیں۔
ان کے لیے مقررہ وقت پر خبریں فائل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا تھا۔ بجلی کی بندش اور ٹیلیفون لائنوں کی خرابی عام بات تھی، جو رپورٹنگ میں بڑی رکاوٹ بنتی تھیں۔
انہوں نے کہا: ’رہنمائی یا تربیت دینے والے لوگ بہت کم تھے اور صحافیوں کی تعداد بھی محدود تھی۔ آج ہر چیز آپ کی انگلیوں کی پوروں پر دستیاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مواصلات کے ذرائع میں ایک انقلاب آ چکا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1964 میں انگلینڈ منتقل ہونے کے بعد انہوں نے کرکٹ کھیلنا اور دیکھنا جاری رکھا اور ساتھ ہی صحافت کی تعلیم بھی حاصل کی۔ مرکزی دھارے کی برطانوی صحافت میں جگہ بنانا آسان نہ تھا، لیکن 1970 کی دہائی میں انہیں بی بی سی اردو سروس کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جس کے بعد ان کی پیشہ ورانہ ترقی کا سفر مسلسل آگے بڑھتا گیا۔
انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بطور مبصر بھی خدمات انجام دیں۔
اپنی زندگی کے نشیب و فراز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ڈان اخبار کو بتایا: ’ابتدائی دنوں میں مشکل وقت وہ تھا جب روزگار کے مواقع کم تھے اور میں بمشکل گزارا کر پاتا تھا۔ میں نے لندن سکول آف اکنامکس، برٹش لا سوسائٹی، برٹش میڈیکل سوسائٹی اور بین الاقوامی تیل کمپنیوں میں عارضی نوعیت کی مختلف ملازمتیں کیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’بہترین وقت وہ تھا جب میں نے بی بی سی، بین الاقوامی خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی، دی گارڈین، دی ٹائمز، ڈیلی ٹیلی گراف، ڈان اور دنیا کے دیگر اخبارات و جرائد کے لیے رپورٹنگ شروع کی۔ اس کے علاوہ میں نے تقریباً ہر اس ملک میں ریڈیو اور ٹی وی پر تبصرہ کیا جہاں میں گیا۔‘
قمر احمد کو بلاشبہ دنیا کا سب سے زیادہ سفر کرنے والا کرکٹ صحافیوں میں سے ایک کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایسے مقامات بھی دیکھے اور وہاں سے رپورٹنگ کی جہاں تک بہت سے لوگ کبھی پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے تھے کہ انہیں صحافت اور نشریات کی دنیا کی عظیم شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ان میں جان ووڈکاک، الیکس بینسٹر، جان آرلاٹ، ٹونی کوزیئر، کرسٹوفر مارٹن جینکنز، مائیک کاورڈ، کے این پربھو اور معروف پاکستانی قلم کار عمر قریشی شامل تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک یادگار اور مسحورکن تجربہ تھا۔
اپنے 400ویں ٹیسٹ میچ کی کوریج کے بارے میں انہوں نے کہا: ’میرا 400واں ٹیسٹ میچ کور کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسے کسی اور دن کسی اور میچ کی رپورٹنگ کرنا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب میں نے 1974 میں بطور کل وقتی کرکٹ لکھاری اور براڈکاسٹر کام شروع کیا تھا تو میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یہ سنگِ میل حاصل کر لوں گا۔ میرا خیال ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑا کرم کیا کہ مجھے اعلیٰ ترین سطح پر اتنے زیادہ میچوں کی کوریج کا موقع ملا۔‘
قمر احمد نے کرکٹ کے اس عظیم کھیل میں وقت کے ساتھ آنے والی بڑی تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اب پہلے کی نسبت کم ٹیسٹ میچ کھیلے جاتے ہیں۔ رنگین لباس، تجارتی توثیقات (اینڈورسمنٹس)، سفید گیندوں کا استعمال، سیاہ سائٹ سکرینز اور کیری پیکر دور کے بعد فلڈ لائٹس میں کرکٹ کا انعقاد، ان بڑی تبدیلیوں میں شامل ہیں جن سے کرکٹ گزری ہے۔
