صدر ٹرمپ امن تجاویز کے لیے کچھ حد تک نرمی کرنے پر آمادہ: وائٹ ہاؤس

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع۔

ایران کا آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے خاتمے تک مذاکرات سے انکار۔

پاکستان کی امریکہ اور ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آمادہ کرنے کی کوششیں۔

لائیو اپ ڈیٹس


صدر ٹرمپ امن تجاویز کے لیے کچھ حد تک نرمی کرنے پر آمادہ: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن تجاویز کے لیے ایران کو کچھ حد تک نرمی دینے کی پیشکش کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ طے نہیں کیا کہ ایران کب تک امن کی تجویز پیش کرے۔

کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ’صدر نے خود کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی۔ بالآخر وہی اس کے وقت کا تعین کریں گے۔‘

انہوں نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے کسی امن منصوبے کے لیے کوئی واضح ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی، بلکہ وقت کا فیصلہ خود صدر کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ صدر نے جنگ بندی میں توسیع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ایران کو اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔

’امریکہ اور صدر ٹرمپ نے ابتدا ہی سے اپنے مطالبات، اپنی سرخ لکیریں اور وہ چیزیں واضح کر دی ہیں جو امریکی عوام، ملک، اور اپنے اتحادیوں کے بہترین مفاد میں ضروری ہیں۔‘


امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز میں آمنے سامنے

امریکہ اور ایران میں جنگ بندی میں توسیع کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورت حال اب بھی کشدیدہ ہے جہاں امریکہ نے متعدد جہازوں کو واپس بھیجنے اور ایران نے ایک اور بحری جہاز پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

 ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعرات کو ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیاں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے بدھ کو آبنائے ہرمز میں تیسرے جہاز پر حملہ کیا۔

نور نیوز، فارس اور مہر نے بتایا کہ پاسداران انقلاب نے یوفوریا نامی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جو ایرانی ساحل پر ’پھنس‘ گیا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث 30 سے زائد جہاز متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر بتایا کہ 10 ہزارہ سے زائد فوجیوں، 100 سے زائد لڑاکا اور نگرانی کرنے والے طیاروں کے ساتھ کی گئی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث اب تک 31 سے زائد جہازوں کو واپس جانے یا بندرگاہ کی طرف لوٹنے کی ہدایت دی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *