تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی عمر کی خواتین روزانہ صرف 4000 قدم چل کر جلد موت کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ حفاظتی اثر جو جلد موت کے امکان کو ایک چوتھائی سے زیادہ کم کر دیتا ہے، اس وقت بھی برقرار رہتا ہے جب ہفتے میں صرف ایک یا دو بار اتنے ہی قدم چلے جائیں۔
یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ موت کی شرح کو کم کرنے اور دل کی بیماری کے خطرے سے بچنے کے لیے سرگرمی کی کثرت کی بجائے اٹھائے گئے قدموں کی مجموعی تعداد زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
یہ دریافت روزانہ 10000 قدموں کے مقبول معیار کو چیلنج کرتی ہے، جس میں ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پیدل چلنے سے صحت کے فوائد حاصل کرنے کا ’کوئی بہتر یا بہترین طریقہ‘ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حرکت کرنا اہم ہے اور ’افراد کسی بھی پسندیدہ انداز میں جسمانی سرگرمی کر سکتے ہیں۔‘
تحقیق سے معلوم ہوا کہ نسبتاً سست طرز زندگی گزارنے والی خواتین کے مقابلے میں، جو خواتین ہفتے میں ایک یا دو دن ,4000 قدم چلتی تھیں، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 26 فیصد کم اور دل کی بیماری کا خطرہ 27 فیصد کم تھا۔
ہفتے میں تین دن ایسا کرنے کے زیادہ فوائد تھے، جن میں قبل از وقت موت کا خطرہ 40 فیصد کم اور دل کی بیماری کا خطرہ 27 فیصد کم ہونا شامل ہے۔
اس سے زیادہ ورزش (5,000 سے 7,000 قدم) کرنے سے خطرات میں مزید کمی آئی، لیکن یہ کمی معمولی تھی۔
اس صورت میں، موت کا خطرہ 32 فیصد تک کم تھا لیکن دل کی بیماری سے ہونے والی موت کے خطرے میں 16 فیصد پر ٹھہراؤ آ گیا۔
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین سمیت دیگر محققین نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بڑی عمر کی خواتین میں قبل از وقت موت اور دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ’کسی خاص ہدف کو پورا کرنے والے دنوں کی تعداد کے بجائے، روزانہ اٹھائے گئے قدموں کی تعداد اہم ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’بڑی عمر کی خواتین کے لیے جسمانی سرگرمی کے رہنما اصولوں میں موت اور دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہفتے میں ایک سے دو دن روزانہ کم از کم 4000 قدم چلنے کی سفارش پر غور کرنا چاہیے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 13547 ایسی خواتین شامل تھیں جو تجربے کے آغاز میں دل کی بیماری اور کینسر سے محفوظ تھیں، اور ان کی اوسط عمر تقریباً 72 سال تھی۔
ان خواتین نے اپنے قدموں کی تعداد کا حساب لگانے کے لیے مسلسل سات دن تک آلات جسم پر لگائے اور تقریباً 11 سال تک ان کا جائزہ لیا گیا۔
اس عرصے کے دوران 1765 خواتین (13 فیصد) چل بسیں اور 781 (5.1 فیصد) دل کی بیماری کا شکار ہو گئیں۔
محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’روزمرہ کے معمولات سے قطع نظر، زیادہ قدم چلنے کا تعلق صحت کے بہتر نتائج سے ہے۔‘
