امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد منظور

امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو ایک قرار داد منظور کی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مزید فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کی زیر قیادت امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی جماعت کے ارکان میں بھی تین ماہ سے جاری اس تنازعے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر جنگی اختیارات کی اس قرارداد کی حمایت کی اور یوں 208 کے مقابلے میں ایوان میں اس قرارداد کے حق میں 215 ووٹ پڑے۔

قرارداد میں ٹرمپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جب تک کانگریس جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے وہ ایران سے امریکی فوجیوں کو واپس بلائیں۔

یہ قرارداد ٹرمپ کے لیے کانگریس میں ایک اور دھچکہ ہے، حالاںکہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ان کی جماعت کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔

فی الحال یہ ووٹ زیادہ تر علامتی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ کسی قانون کے مؤثر ہونے کے لیے اس کا ایوان نمائندگان کے ساتھ ساتھ سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یہ بحث بھی موجود ہے کہ اگر کانگریس ایسی جنگی اختیارات کی قراردادیں منظور کر بھی لے تو کیا وہ آئینی طور پر درست ہوں گی یا نہیں؟

اس کے باوجود یہ ووٹ ظاہر کرتا ہے کہ کچھ ریپبلکن ارکان ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع کو سنبھالنے کے طریقے سے مطمئن نہیں ہیں۔ 

یہ صدارتی جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی ایک کم یاب دو جماعتی کوشش بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ 

اس سے پہلے ایوان میں جنگی اختیارات کی تین قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، لیکن ہر بار فرق کم ہوتا گیا۔ ایوان کی ریپبلکن قیادت نے گذشتہ ماہ اس قرارداد پر ووٹنگ اچانک ملتوی کر دی تھی، جب اس کے منظور ہونے کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔

سینیٹ نے گذشتہ ماہ اسی طرح کی ایک الگ قرارداد کو ایک ابتدائی ووٹ میں آگے بڑھایا تھا، اس سے پہلے ایسی سات کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ سینیٹ میں اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول ابھی طے نہیں ہوا۔

جن چار ریپبلکن ارکان نے جنگی اختیارات کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، ان میں مشی گن کے ٹام بیرٹ، اوہائیو کے وارن ڈیوڈسن، پنسلوینیا کے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی کے تھامس میسی شامل ہیں۔

کسی ڈیموکریٹ نے اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ ایوان کے سات ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف حالیہ مزاحمت

ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں کانگریس میں اپنی ہی جماعت کے کچھ ارکان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالاں کہ کئی ماہ تک بہت کم ریپبلکن ارکان نے ان کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

بدھ کو ہی ایوان نے ایک طریقہ کار سے متعلق تحریک بھی منظور کی، جس سے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ ہموار ہوئی۔ اس قانون کے تحت یوکرین کو سکیورٹی امداد دی جائے گی، جو روسی حملے کے خلاف لڑ رہا ہے۔ یہ بل ایوان کے ایجنڈے میں اس وقت شامل ہوا جب گزشتہ ماہ ایک پٹیشن نے 218 دستخطوں کی حد پوری کر لی۔

چھ ریپبلکن ارکان اور ایک آزاد رکن، جو عام طور پر ریپبلکنز کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں، نے یوکرین سے متعلق اس اقدام کی حمایت کی۔

حال ہی میں ریپبلکن ارکان نے ٹرمپ کے اس منصوبے کے خلاف بھی بغاوت کی تھی جس کے تحت وہ ایک ‘ویپنائزیشن’ فنڈ بنانا چاہتے تھے۔ اس فنڈ کا مقصد ان کے سیاسی اتحادیوں کو رقم دینا تھا جن کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی زیادتی کا نشانہ بنے ہیں۔

بدھ کو ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹ کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹ ایک مورگیج ریگولیٹر ہیں اور ان کے پاس قومی سلامتی کا تجربہ نہیں ہے۔

اختیارات کی تقسیم

ڈیموکریٹس نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے تنازعے میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت کے لیے کانگریس سے رجوع کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان صرف مقننہ یعنی کانگریس کر سکتی ہے، صدر نہیں۔

ڈیموکریٹس نے خبردار کیا کہ ٹرمپ نے واضح حکمتِ عملی بتائے بغیر ملک کو ایک طویل تنازع میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دوسری اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر بھی سخت تنقید کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنگی اختیارات کی قرارداد پیش کرنے والے نمائندے گریگری میکس، جو خارجہ امور کمیٹی کے سینیئر ڈیموکریٹ رکن بھی ہیں، نے ووٹ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’آج اس جنگی اختیارات کی قرارداد کی منظوری ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ ریپبلکنز اپنے ووٹرز کی بات سن رہے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور ایسی جنگ نہیں چاہتے جس کا اختتام واضح نہ ہو۔‘

ڈیموکریٹس نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاشی معاملات میں اخراجات اور مہنگائی کو اپنی مرکزی مہم کا حصہ بنا لیا ہے۔ ان انتخابات سے یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا ریپبلکنز کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں یا نہیں۔

اپریل میں امریکہ میں پیداواری قیمتوں میں چار سال کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ جنگ شروع ہونے کے بعد اشیا اور خدمات کی لاگت میں تیز اضافہ تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی فوری ضرورت ہے۔

جنگی اختیارات کی قراردادوں کے ریپبلکن مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیموکریٹس کی سیاسی نمائش ہے۔ ان کے مطابق ڈیموکریٹس امریکہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور ٹرمپ کے خلاف سیاسی نمبر بنا رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *