بلوچستان حکومت اور دھرنا شرکا میں معاہدہ، کوئٹہ اور زیارت میں دھرنے ختم

زیارت اور ہنہ اوڑک میں رواں ماہ مسلح حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت 35 اموات کے معاملے پر حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مسلسل مذاکرات کے بعد جمعے کی شب آٹھ نکاتی معاہدہ طے پا گیا، جس کے بعد 7 جولائی سے کوئٹہ اور زیارت میں جاری دھرنے ختم ہو گئے اور نعشوں کو تدفین کے لیے زیارت منتقل کر دیا گیا۔

پانچ جولائی کو مسلح افراد نے زیارت اور ہنہ اوڑک میں حملے کر کے پولیس اور مقامی افراد کو قتل اور درجنوں افراد کو اغوا کیا تھا، جس کے بعد جان سے جانے والوں کے لواحقین نے کوئٹہ اور زیارت میں دھرنا دے دیا تھا۔

دھرنے اور احتجاج کو ختم کرنے کے لیے لواحقین اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے۔ اسی سلسلے میں جمعرات کی شب شروع ہونے والے مذاکرات کا اختتام جمعے کو معاہدے کے ساتھ ہوا۔

 معاہدے پر وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ جبکہ دھرنا لواحقین کی جانب سے پختونخوا میپ کے عبدالرحیم زیارتوال،  نصر اللہ،  اسحاق بلوچ، آغا حسن اور دھرنا کمیٹی کے ترجمان اصغر اچکزئی نے دستخط کیے۔

دھرنا کمیٹی کے ترجمان اصغر اچکزئی نے میڈیا کو معاہدے سے متعلق تفصیلات بتائیں، جس کے مطابق معاہدے میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، لیویز فورس کی بحالی کے لیے لائحہ عمل، پولیس کو با اختیار اور مضبوط بنانے، متنازع زمینوں کی الاٹمنٹس منسوخ کرنے اور مسلح جتھوں کے خلاف کارروائی سمیت اہم نکات شامل ہیں۔

معاہدے میں شامل نکات کچھ یوں ہیں:

 ۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا، جس کے لیے بلوچستان حکومت ہائی کورٹ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرے گی۔

۔ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، مسلح جتھوں اور امن دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

۔ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے یا اس کی بحالی کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے گی۔

۔ 15 روز کے اندر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی جبکہ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں معامله بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں ووٹنگ کی جائے گی۔

۔ ضلع زیارت، منگی ڈیم اور دیگر متعلقہ علاقوں میں زمینوں کی متنازع الاٹمنٹس کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ غیر قانونی یا متنازع الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں گی اور مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

۔ تمام شہداء، پولیس اہلکاروں اور دیگر متاثرین کے لواحقین کو شہداء پیکج کے تحت معاوضہ، بچوں کی تعلیم، ملازمتوں اور دیگر مراعات کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

۔ معاہدے کے تحت بعض سرکاری عمارتوں، چیک پوسٹوں اور اہم مقامات کو شہدائے زیارت کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

۔ معاہدے میں شہری علاقوں میں امن و امان یقینی بنانے، پولیس کو جدید وسائل فراہم کرنے، نفری میں اضافے اور پولیس کو مزید با اختیار اور مضبوط بنانے کے نکات بھی شامل ہیں۔

حکومت بلوچستان نے ان واقعات میں جان سے جانے والے افراد کے لیے ایک کروڑ 11 لاکھ روپے فی کس دینے اور ان کے بچوں کو سرکاری خرچے پر مفت اعلیٰ تعلیم دلوانے کے احکامات پہلے ہی جاری کر رکھے ہیں۔

دھرنا کمیٹی کے ترجمان اصغر خان اچکزئی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’اتنے دن دھرنے کے بعد آج ہم  کامیاب ہوگئے۔ آل پارٹیز کے لیے اب امتحان شروع ہوا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں حکومت اور لواحقین کا مشکور ہوں کہ دونوں نے صبر سے کام لیا۔ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا گیا پھر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔‘

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’شہدا ہمیں بے حد عزیز ہیں، ان کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *