پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا اتوار سے آغاز ہو گیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں۔
اس موقع پر انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ پہلی مرتبہ او آئی سی کی نویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں شامل کرنے کے موضوع پر منعقد ہو رہی ہے، جسے انہوں نے ایک اجتماعی کوشش قرار دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرا اور دیگر سرکاری نمائندے اسلام آباد میں اکٹھے ہو کر ان امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور اس حوالے سے بہتر حکمتِ عملی اختیار کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔
افغانستان کی نمائندگی اور طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ’یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ افغان طالبان حکومت نے لڑکیوں کے لیے سکول، تعلیم اور کتابوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
’یہ ایک نہایت تشویش ناک صورتحال ہے۔ او آئی سی کے رکن ممالک تو یہاں موجود ہیں، لیکن افغانستان میں کوئی جمہوری حکومت نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو تمام فیصلے خود کرتا ہے۔‘
بیرسٹر عقیل ملک کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں افغان خواتین اور بچیوں سے چھینے گئے حقوق کی بحالی پر بھی زور دیا جائے گا۔
