پاکستان کے زیر انتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو مظفرآباد ڈویژن کے مختلف حلقوں میں پولنگ جاری رہی، تاہم خراب موسم، شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بعض علاقوں میں پولنگ ملتوی کر دی گئی نیز ووٹر ٹرن آؤٹ کم دیکھنے میں آیا۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ دو روز کے لیے ملتوی کی گئی ہے اور امن و امان پر قابو رکھنے کے لیے مظفرآباد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا، ’الیکشن پرامن طریقے سے جاری ہیں۔ خراب موسمی حالات کے باعث بعض حلقوں میں پولنگ دو روز کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔ کچھ عناصر انتخابی عمل میں خلل ڈالنا چاہتے تھے، تاہم انتظامیہ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ مظفرآباد میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے مختلف صوبوں سے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔‘
الیکشن کمیشن کے مطابق شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حلقہ ایل اے-27 مظفرآباد ون میں پولنگ ممکن نہ ہو سکی کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہونے سے پولنگ عملہ اور انتخابی سامان بروقت نہیں پہنچ سکا۔ کمیشن نے اعلان کیا کہ اس حلقے میں پولنگ کی نئی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔
اسی طرح حلقہ ایل اے-28 مظفرآباد 2 (لچھراٹ) کے متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر بھی خراب موسم اور راستوں کی بندش کے باعث پولنگ چار اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت آج (بروز اتوار) مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔
اس مرحلے میں مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی کے اضلاع میں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
مظفرآباد ڈویژن کے نو انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 207 امیدوار مدمقابل ہیں، جن میں ضلع مظفرآباد کے پانچ، جہلم ویلی کے دو اور نیلم کے دو حلقے شامل ہیں۔
آج ہی پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہو رہی ہے، جہاں 137 امیدوار میدان میں ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان نشستوں میں سے چھ وادی کشمیر جبکہ چھ جموں ریجن کے لیے مختص ہیں۔ یہ وہی نشستیں ہیں جن پر کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کا احتجاج جاری ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مختلف پولنگ سٹیشنوں کے دورے کے دوران دیکھا کہ کئی مقامات پر ووٹر ٹرن آؤٹ توقع سے کم رہا۔ متعدد شہریوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی انتخابی بائیکاٹ کی کال کے باعث ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔
مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 95 ہزار 66 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں چار لاکھ 27 ہزار 400 مرد جبکہ تین لاکھ 82 ہزار 167 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر مجموعی ووٹرز کی تعداد چار لاکھ 38 ہزار 834 ہے، جن میں دو لاکھ 47 ہزار 776 مرد اور ایک لاکھ 91 ہزار 54 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
پولنگ کے لیے مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر ایک ہزار 483 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
ان میں سے 533 کو انتہائی حساس، 741 کو حساس جبکہ 209 کو نارمل قرار دیا گیا جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں کے لیے ایک ہزار 57 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
رپورٹنگ کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں شیلنگ جیسی آوازیں بھی سنیں۔ اسی دوران لوئر پلیٹ اور نیلم پل کے قریب پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا۔
