پاکستان پیپلز پارٹی نے اتوار کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات ان سے ’چھین لیے گئے‘، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت پر جوابی تنقید کی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’گولی، لاٹھی اور زور زبردستی سے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ مار رہی ہے۔‘ ان کے بقول، ’دھاندلی کر کے مسلم لیگ (ن) کا جیتنا عوام کا ریاست پر اعتماد ختم کر دے گا۔‘
دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’آزاد کشمیر کا الیکشن ہم سے چھینا گیا ہے۔‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر انتخابی عملے کو اغوا کر کے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے گئے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا، ’اگر گولیاں مار کر اور خون بہا کر جیتنا ہے تو پھر یہ کون سا الیکشن ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی عمل ہی متنازع ہو جائے تو اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ابتدا ہی سے مرحلہ وار انتخابات کی مخالفت کی تھی اور خراب امن و امان کی صورت حال کے باعث انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی تھی، تاہم بعد ازاں تحفظات کے باوجود انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’زرداری صاحب کے ایک برخوردار فرما رہے ہیں کہ یہ سسٹم ختم ہو چکا ہے اور آگے نہیں چل سکتا۔‘
سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا، ’ہمیں نہ ڈرایا جائے کہ کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو سنبھالے نہیں جائیں گے، ہم نے ان کاکروچوں کو اچھے طریقے سے سنبھالا ہوا ہے۔‘
ادھر آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں خراب موسم، شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بعض پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ دو روز کے لیے ملتوی کر دی گئی، جبکہ الیکشن کمیشن نے متعدد علاقوں میں پولنگ کے وقت میں بھی توسیع کی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مظفرآباد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
