برطانوی پاپ گلوکار ایڈ شیرن نے ہفتے کو کہا ہے کہ غزہ کی صورت حال کا ’کوئی جواز‘ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا یہ بیان اس تنقید کے بعد سامنے آیا کہ انہوں نے اپنے ٹور کا حصہ ساتھی فن کار کی حمایت نہیں کی جنہیں فلسطین کے حق میں بیان دینے پر ٹور سے نکال دیا گیا تھا۔
35 سالہ ایڈ شیرن نے میکلمور کو نکالنے کے فیصلے کے پیچھے اپنا ہاتھ ہونے کی تردید کی ہے اور اس کی بجائے ٹور کے پروموٹر کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
ریپر میکلمور کے تنازعے کے بعد فلاڈیلفیا میں اپنے پہلے شو کا آغاز کرتے ہوئے شیرن نے کہا کہ ’غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تباہ کن، ناقابل جواز اور غیر متناسب ہے۔‘
امریکی امریکی فن کار میکلمور نے رواں ماہ نیو جرسی میں ایک کنسرٹ کے دوران ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ اس پر ان سٹیڈیم کے مالکان نے تنقید کی جہاں آئندہ ’لوپ ٹور‘ کے کنسرٹ ہونے تھے۔
اس کے بعد ایڈ شیرن کے ساتھ پرفارم کرنے والے چار فن کار دورے سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے پر اپنے بیانات کہا کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
جذباتی ایڈ شیرن نے اپنے مداحوں سے کہا، ’مجھے کچھ مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ مجھ سے غلطیاں ہو رہی ہیں اور میں اس پر بہت معذرت خواہ ہوں۔‘ حاضرین نے ان کی بات پر خوشی کا اظہار کیا۔
ناقدین نے ایڈ شیرن پر الزام لگایا کہ انہوں نے ارب پتی کاروباری شخصیت رابرٹ کرافٹ کی قیادت میں سٹیڈیم مالکان کے سامنے مؤقف نہیں اپنایا۔ اس کے بعد ایڈ شیرن کے بائیکاٹ کے مطالبات بھی کیے گئے۔
کنسرٹ سے پہلے فلسطین کے حامی چند درجن مظاہرین لنکن فنانشل فیلڈ کے باہر جمع ہوئے۔ انہوں نے فلسطینی پرچم لہرائے اور ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے۔
گاڑیوں میں موجود پولیس اہلکاروں نے کچھ فاصلے سے اس پرامن مظاہرے کی نگرانی کی۔
سٹیڈیم میں داخل ہونے والے بعض مداحوں نے کہا کہ تنازعے کے باعث وہ کنسرٹ میں آنے سے ہچکچا رہے تھے، لیکن آخرکار انہوں نے موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے آنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم برینڈن اٹیکے جیسے کچھ لوگوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
براؤن یونیورسٹی کے 18 سالہ طالب علم نے ایڈ شیرن پر الزام لگایا کہ انہوں نے میکلمور کی آواز دبانے میں رابرٹ کرافٹ اور دیگر افراد کا ساتھ دیا۔
ان کا کہان تھا کہ ’میں نے کنسرٹ میں جانے کی بجائے احتجاج میں شرکت کا فیصلہ کیا تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی کی جانب لوگوں کی توجہ دلائی جا سکے۔‘
ایک ایسے وقت میں جب زیادہ سے زیادہ فنکار غزہ کی جنگ اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، ایڈ شیرن اب تک سیاسی معاملات پر بات کرنے سے گریز کرتے رہے۔
برطانوی گلوکار نے منگل کو انسٹاگرام پر کہا، ’اس تباہ کن جنگ کے بارے میں میری اپنی رائے ہے۔ اگر میں اس پر عوامی سطح پر بات نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری کوئی رائے نہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میرے کنسرٹس میں آنے والے لوگ کسی سیاسی بحث کی توقع نہیں رکھتے۔‘
ہفتے کو فلسطین کے حامی ایک گروپ نے فن کاروں، مداحوں اور عملے سے کہا کہ وہ ایڈ شیرن کے کنسرٹس میں نہ جائیں۔
فلسطینی مہم برائے اسرائیل کے تعلیمی و ثقافتی بائیکاٹ (پی اے سی بی آئی) نے کہا کہ ’اب ہم ایڈ شیرن کے پورے عالمی دورے کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہیں۔ اس میں لاطینی امریکہ میں ہونے والے کنسرٹس اور یورپ کا وہ دورہ بھی شامل ہے جس کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔‘
