آبنائے ہرمز کی صورت حال پاکستان پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے: عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

عاصم افتخار نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورت حال پر ہونے والے مباحثے کے دوران کہی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر کے ممالک کو مشکل میں ڈال رکھا جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث جہاں تیل کی قلت کا سامنا ہے وہیں قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کو بھی چند مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔

ابتدا میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا تاہم بعد میں امریکہ نے بھی اس کی ناکہ بندی کا آغاز کر دیا۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے نے کہا کہ ’وسیع تر علاقائی کشیدگی بین الاقوامی امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔‘

عاصم افتخار نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کی صورت حال دنیا بھر کے ممالک بشمول پاکستان پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔‘

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم بین الاقوامی قانون کے عالمی احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کے حامی ہیں۔‘

عاصم افتخار نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نازک مرحلے پر تحمل، مکالمہ اور سفارت کاری کو غالب آنا چاہیے۔

’پاکستان ایسے سفارتی راستوں کو آگے بڑھانے اور اس بحران کے پُرامن حل کی حمایت کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات اسی عزم کا ثبوت ہیں۔ پاکستان خطے میں مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششوں کی حمایت اور سہولت کاری جاری رکھے گا۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے جبکہ دوسرے دور کے لیے بھی تیاریاں تو کر لی گئی تھیں تاہم ایران نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے تقریباً تین روز میں دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا اور اپنی تجاویز سے پاکستان کو آگاہ کیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *