کراچی سمیت سندھ بھر میں گرمی کی شدت تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور درجہ حرارت کئی علاقوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں ایک بار پھر ہیٹ ویو کی لہر کا خدشہ ہے۔
مئی اور جون عام طور پر سال کے گرم ترین مہینے ہوتے ہیں، جن میں ہیٹ ویو کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ درجہ حرارت اوسطاً 40 سے 44 تک پہنچ جاتا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم زیغم کے مطابق آئندہ چند روز میں نہ صرف درجہ حرارت 40 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے بلکہ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھنے کا امکان ہے، جس سے گرمی کی شدت مزید محسوس ہوگی۔
ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر شہر کے مختلف مقامات پر ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں شہریوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں پانی کا چھڑکاؤ، ٹھنڈے پانی کی سبیل اور بنیادی طبی امداد شامل ہیں۔
طبی ماہرین اس صورت حال میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق شہریوں کو چاہیے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، زیادہ سے زیادہ پانی پیئں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو، اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو سر کو گیلے کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں۔
مجموعی طور پر، آنے والے دنوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خدشات کے پیش نظر احتیاط اور حکومتی اقدامات دونوں ہی نہایت اہم ہیں تاکہ عوام کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
اس کے علاوہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کے مطابق ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کے لیے عوام کو چاہیے کہ وہ شدید گرمی میں براہ راست دھوپ سے بچیں، زیادہ پانی پیئں، کیفین والے مشروبات سے گریز کریں، ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور نمکین غذا کا استعمال کریں۔
علامات ظاہر ہونے پر مریض کو فوری طور پر سایہ دار مقام پر منتقل کیا جائے، غیر ضروری کپڑے اتاریں، نیم گرم پانی یا برف کے ذریعے جسم کو ٹھنڈا کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
