پارا چنار ایئرپورٹ: 80 کی دہائی میں قیام کے بعد بحالی کا سفر

پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی(پی اے اے) نے وزارت دفاع کی اشتراک سے ضلع کرم میں واقع پارا چنار ایئر پورٹ پر بحالی کا کام 90 فیصد مکمل کرنے کے بعد کامیاب آزمائشی پروازیں کی جس سے رن وے اور حفاظتی معیار کی تصدیق ہو گئی ہے۔

پی اے اے کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو بھیجے گئے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ پارا چنار ایئر پورٹ پر رن وے، ٹیکسی وے، ایپرن، ٹرمینل بلڈنگ، اور دیگر سہولیات کی بحالی کا کام 90 فیصد مکمل ہو گیا ہے۔

پی اے اے کے مطابق: ’گذشتہ سال دسمبر میں 28 کروڑ سے زائد کی لاگت سے ایئرپورٹ کی بحالی کے منصوبے کا آغاز ہوا جس سے پارا چنار اور آس پاس کے علاقوں کے لیے ضروری فضائی رابطہ بحال ہونے میں مدد ملے گا۔‘

پی اے اے کے مطابق گذشتہ روز پاکستان آرمی ایوی ایشن نے سیسنا طیارے کے ذریعے کامیاب آزمائشی پروازیں کیں۔ ایئرپورٹ جلد ہی پروازوں کے لیے تیار ہوگا۔

پارا چنار ایئر پورٹ جو کرم کو پاکستان سے ملانے کے لیے اہم مانا جاتا ہے سطح سمندر سے تقریباً پانچ ہزار 800 فٹ کی بلندی پر خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں واقع ہے جس کی سرحد افغانستان کی مشرقی صوبوں خوست، پکتیا اور پکتیکا سے ملتی ہے۔

پارا چنار کا ملک کے دیگر علاقوں سے فضائی رابطے کے علاوہ ماضی میں یہ ایئر پورٹ ایک اہم سٹریٹجک اڈے کے طور پر مانا جاتا تھا جس کی رن وے کی لمبائی 1200 میٹر ہے جہاں شارٹ لینڈنگ اور ٹی آف کی سہولت موجود ہے۔

1996 میں ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پارا چنار ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان پر سوویت حملے کے بعد ایئرپورٹ کا کردار

1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد مختلف تحقیقی مقالوں کے مطابق پارا چنار ایک اہم سٹریٹجک علاقہ سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ تحقیقی مقالوں کے مطابق یہ تھی کہ پارا چنار افغانستان کے مشرقی صوبوں کے قریب تھا اور وہاں سے افغان پناہ گزینوں سمیت افغان جنگ جوں بھی آتے تھے۔ 1980 کی دہائی کے وسط میں یہاں ہوائی اڈہ قائم کیا گیا۔

اس دوران سوویت یونین کے جنگی طیاروں نے گلوبل ڈیفنس انسائٹ نامی میگزین کے مطابق متعدد بار پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس میں پارا چنار کا علاقہ بھی شامل تھا۔

میگزین کے مطابق 1986 میں پہلی مرتبہ روسی ساختہ ایس یو 22 جنگی طیارے کو پاکستان فضائیہ کی جانب سے گرایا گیا تھا جب کہ اسی میگزین کے مطابق مجموعی طور سویت یونین کے دو طیارے پارا چنار میں مار گرائے گئے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *