پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو وزیر اعظم فیول ریلیف سکیم پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور حکام کو ان پٹرول پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی جو رجسٹرڈ مستحق افراد کو رعایتی نرخوں پر ایندھن فراہم نہیں کرتے۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پروگرام کی پیش رفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا، اور کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کی فراہمی کے طریقہ کار کو آسان بنانے سے رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے جس سے مزید مستحق شہری اس اقدام سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے ہیں۔
انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف سبسڈی سکیم کو مستقبل کے عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے ممکنہ گیم چینجر قرار دیا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے رواں سال 13 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ ایندھن سبسڈی سکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اس سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے مالکان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر پٹرول پر یہی سبسڈی ملے گی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت اب تک کل 15519282 شہری رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ ان میں 1.506 کروڑ موٹر سائیکل مالکان اور 800 سی سی تک انجن کی صلاحیت والی گاڑیوں کے 4 لاکھ 49 ہزار مالکان شامل ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 63,153,685 سبسڈی ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے 59,445,347 استعمال ہو چکے ہیں۔ 4 نومبر 2026 تک فیول سبسڈی سکیم کے تحت کل ادائیگیاں 28.6 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔
وزیر اعظم نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ، وفاقی سیکریٹری ضرار ہاشم خان اور ان کی ٹیم کو پروگرام کی شفافیت اور نگرانی یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ نظام اور ڈیش بورڈ تیار کرنے پر سراہا۔
مستحقین کی سہولت اور شکایات کے ازالے کے لیے صارفین اور پٹرول پمپ مالکان کے لیے الگ الگ کال سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم نے اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا کہ رجسٹرڈ مستحقین کو سکیم کے تحت وہ سہولیات ملیں جو فراہ کی گئی ہیں۔ انہوں نے ان افراد کو رعایتی ایندھن دینے سے انکار کرنے والے پٹرول پمپوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
حکومت نے جمعرات کو پٹرول کی قیمتوں میں 9.41 روپے فی اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.56 روپے فی لیٹر کی کمی کر دی ہے۔
پاکستان کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 362 روپے سے کم کر کے 352.59 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جب کہ ہائی سپیڈ ڈیزل 387.81 روپے سے کم ہو کر 382.25 روپے فی لیٹر ہو گا۔
جمعے سے لاگو ہونے والی یہ نظرثانی شدہ قیمتیں بین الاقوامی توانائی کی غیر مستحکم مارکیٹوں کے درمیان سامنے آئی ہیں، جہاں بدھ کو خام تیل کی قیمتیں دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔
روئٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز 8.7 فیصد کم ہو کر 94.62 ڈالر فی بیرل جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 8.3 فیصد کم ہو کر 88.12 ڈالر پر آ گیا۔
پاکستان جو درآمدی پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کو رواں سال کے اوائل میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے تنازع کی وجہ سے جہاز رانی اور ایندھن کی ترسیل میں تعطل کے بعد سے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔
