افغانستان کے بارے میں ماسکو فارمیٹ کا بدلتا ہوا لہجہ اب نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جو عمل ابتدا میں افغانستان میں سیاسی مفاہمت کو فروغ دینے اور اس کے ہمسایہ ممالک کے سکیورٹی خدشات کو حل کرنے کے لیے ایک علاقائی سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب بظاہر ایک مختلف سمت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے: یعنی طالبان حکومت کے ساتھ مفاہمت اور موافقت۔
5 اکتوبر کے ماسکو فارمیٹ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہنا خاص طور پر معنی خیز ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے دہشت گردی اور ہمسایہ ممالک کے حوالے سے افغانستان کی ذمہ داریوں سے متعلق شق پر اعتراض کیا۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ زیر بحث شق بنیادی طور پر نئی نہیں تھی۔ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی سے متعلق اسی نوعیت کے خدشات پہلے کے ماسکو فارمیٹ بیانات میں بھی شامل رہے ہیں۔
روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے مشترکہ اعلامیہ طے نہ ہونے کی وجہ افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان اختلافات کو قرار دیا جبکہ یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ ہی عبارت پچھلے اعلامیے میں موجود تھی۔ اس لیے طالبان کا پہلے سے منظور شدہ بات کو بھی قبول نہ کرنا یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ علاقائی خدشات کو مدنظر رکھنے کے معاملے میں یہ حکومت کہاں تک جانے کے لیے تیار ہے۔
تاہم مشترکہ اعلامیے کی ناکامی سے زیادہ اہم اس کا وسیع تر سیاسی پس منظر ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی جانب سے طالبان حکام کو ’قومی حکومت‘ قرار دینا اور ان کی حکمرانی کا مثبت جائزہ پیش کرنا لہجے میں ایک واضح تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ لہٰذا اب سوال یہ نہیں کہ روس طالبان سے روابط رکھے گا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ماسکو اس حکومت کو فعال انداز میں مضبوط بنانے کے لیے کہاں تک جانے کو تیار ہے۔
یہ صورت حال خاص طور پر اس وقت زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب اسے کابل میں انڈیا کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد نئی دہلی نے افغانستان میں نمایاں سفارتی پیش رفت کی ہے اور بتدریج طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی اور سفارتی روابط بحال کیے ہیں۔
پاکستان بارہا الزام عائد کرتا رہا ہے کہ انڈیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی مالی معاونت کرتا ہے، اگرچہ نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ عملی طور پر، اپنے مختلف مفادات اور طریقہ کار کے باوجود، انڈیا اور روس ایک ہی نتیجے میں حصہ دار بن سکتے ہیں: طالبان حکومت کے لیے زیادہ بین الاقوامی گنجائش اور قانونی حیثیت پیدا کرنا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روسی موقف کے باریک بینی سے جائزے کی کئی وجوہات ہیں۔
سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ماسکو افغانستان کے سکیورٹی ماحول سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ روس کو ان عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ نمٹنے کا طویل تجربہ حاصل ہے جو افغانستان سے یا اس کے ذریعے سرگرم رہی ہیں اور وہ بارہا وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار بھی کر چکا ہے۔
اس لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ روس افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان (آئی ایس کے پی)، القاعدہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے بے خبر ہو۔
ٹی ٹی پی پاکستان کا سب سے فوری سکیورٹی مسئلہ ہے۔ بار بار سفارتی رابطوں کے باوجود کابل نے وہ اقدامات نہیں کیے جنہیں اسلام آباد ٹی ٹی پی کو پاکستانی علاقوں پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
اسی طرح بی ایل اے بھی پاکستان کے سکیورٹی خدشات میں نمایاں حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اب تک دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان طالبان دیگر ریاستوں کے خلاف حملے کرنے والے گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ روس کا موقف افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کے مسلسل جائزوں سے مطابقت رکھنا مشکل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے نگرانی کے مختلف ادارے بارہا افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی، سرگرمیوں اور صلاحیتوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
اس کے باوجود ماسکو نے عمومی طور پر سلامتی کونسل میں طالبان کی انسداد دہشت گردی کارکردگی کو سیاسی دباؤ کا مرکزی نکتہ بنانے سے گریز کیا ہے۔ یہ رویہ اس لیے بھی زیادہ قابل توجہ ہے کہ جون میں ہی روس اور پاکستان کے مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد بین الاقوامی دہشت گردی کے بیان میں افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کا واضح حوالہ دیا گیا تھا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ماسکو فارمیٹ کا حالیہ واقعہ کوئی الگ تھلگ مثال نہیں۔
طالبان اس سے پہلے بھی ایسے مشترکہ بیانات کی مخالفت کر چکے ہیں جن میں دہشت گردی یا ہمسایہ ممالک کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں کا ذکر شامل تھا۔
اسی نوعیت کی صورت حال اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے سہ فریقی مذاکرات کے دوران بھی سامنے آئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی سے متعلق وہ زبان جو 2023 میں اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے مشترکہ بیان کا حصہ تھی، بعد کے بیان میں شامل کیے جانے پر طالبان کے لیے ناقابل قبول بن گئی۔ اس کی وضاحت یہ دی گئی کہ طالبان قیادت اس عبارت سے مطمئن نہیں تھی۔
یہ طالبان کے مذاکراتی طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ جو وعدے ایک موقع پر قابل قبول نظر آتے ہیں، وہ داخلی سیاسی مصلحتوں کے زیر اثر بعد میں مسئلہ بن سکتے ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسا رجحان سامنے آتا ہے جس میں طالبان علاقائی سفارت کاری کے فوائد تو حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسی زبان سے گریز کرتے ہیں جو ان پر واضح سیاسی یا سکیورٹی ذمہ داریاں عائد کرے۔
چوتھی اہم بات لاوروف کی جانب سے طالبان کو ’قومی حکومت‘ قرار دینا ہے، جس کے وسیع تر مضمرات ہیں۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں سیاسی اصطلاحات اہمیت رکھتی ہیں۔ ماسکو کے نقطۂ نظر سے یہ اصطلاح قابل فہم ہو سکتی ہے، مگر یہ اس پہلے کے علاقائی مؤقف سے نمایاں انحراف ہے جس میں جامع سیاسی عمل اور طالبان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر زور دیا جاتا تھا۔
فطری طور پر روس نہیں چاہتا کہ افغانستان ایسا خلا بن جائے جس میں مختلف بیرونی طاقتیں سیاسی میدان پر حاوی ہو جائیں۔ لیکن اس حکمت عملی میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ کوئی حکومت سیاسی استحکام تو فراہم کر سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ایسا سکیورٹی ماحول برقرار رکھ سکتی ہے جو ہمسایہ ممالک کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہو۔
اس تضاد کے پاکستان کے لیے بھی اہم نتائج ہیں۔ ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے حوالے سے طالبان کا مؤقف بنیادی طور پر پاکستان کے مطالبات کے خلاف رہا ہے۔ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو پاکستان کے لیے سفارتی گنجائش لازمی طور پر محدود ہوتی جائے گی۔
روس کا ابھرتا ہوا نقطۂ نظر علاقائی سفارتی توازن بھی تبدیل کر رہا ہے۔ اگر انڈیا کابل کے ساتھ اپنے روابط بڑھا رہا ہے جبکہ روس بھی طالبان کو زیادہ سیاسی گنجائش فراہم کر رہا ہے تو طالبان یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی علاقائی متبادل موجود ہیں۔
اس سے کابل کے لیے اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات پر توجہ دینے کی ترغیب مزید کم ہو سکتی ہے۔
شاید یہ ہی روس کی بدلتی ہوئی پالیسی کا سب سے اہم پہلو ثابت ہو۔ ماسکو فارمیٹ کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اس نے افغانستان کے اہم علاقائی فریقین کو اس مشترکہ اصول پر یکجا کیا تھا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اگر یہ اتفاقِ رائے بتدریج ختم ہو کر اس مقام تک پہنچ جائے جہاں ہر ملک کابل کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ مفادات کے حصول میں مصروف ہو، تو یہ علاقائی نظام اپنی بہت سی اصل اہمیت کھو سکتا ہے۔
اگر طالبان ٹی ٹی پی اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے دیگر گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مسلسل انکار کرتے رہے تو اسلام آباد کو بالآخر کابل کے بارے میں اپنی پالیسی کی بنیادی مفروضات پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔
ممکن ہے انتخاب روابط اور محاذ آرائی کے درمیان نہ ہو، بلکہ ایسی مصروف سفارت کاری کے درمیان ہو جو محض توقعات پر مبنی ہو اور ایسی سفارت کاری کے درمیان ہو جو واضح سکیورٹی حقائق پر استوار ہو۔
لہٰذا ماسکو کے بدلتے ہوئے لہجے کے اثرات روس اور طالبان کے تعلقات سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔ یہ افغانستان کے گرد علاقائی توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے اور اسی عمل میں پاکستان کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ تیزی سے مسابقتی بنتے سفارتی ماحول میں اپنی پوزیشن کا ازسرِنو جائزہ لے۔
مصنف پاکستان کے سابق خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ہیں۔ وہ متحدہ عرب امارات اور ایران میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پاکستان پر شائع ہوچکی ہے۔

