زمین کی طرف بڑھتا ہوا ایک شہابِ ثاقب ہفتے کو امریکہ کے شمال مشرقی حصے کے اوپر فضا میں پھٹ گیا، جس سے ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز پورے علاقے میں سنی گئی۔
ناسا کے مطابق اس دھماکے کی شدت تقریباً 300 ٹن دھماکہ خیز مواد ( TNT) کے برابر تھی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی نائب نیوز چیف جینیفر ڈورین نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ آتشیں گولا دوپہر 2 بج کر 6 منٹ پر شمال مشرقی میساچوسٹس اور جنوب مشرقی نیو ہیمپشائر کے اوپر فضا میں پھٹ کر بکھر گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ آتشیں گولا کسی فعال شہابی بارش کا حصہ نہیں تھا، بلکہ ایک قدرتی خلائی چیز تھی، نہ کہ خلا سے واپس آنے والا ملبہ یا کوئی سیٹلائٹ۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس کے ٹوٹنے سے خارج ہونے والی توانائی کا اندازہ تقریباً 300 ٹن TNT کے برابر لگایا گیا ہے، جس کی وجہ سے اتنی زوردار آوازیں سنائی دیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ناسا کے مطابق یہ شہاب ثاقب تقریباً 75 ہزار میل فی گھنٹہ (یعنی 1 لاکھ 20 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ) کی رفتار سے سفر کر رہا تھا اور تقریباً 40 میل کی بلندی پر جا کر پھٹ گیا۔
علاقے کے رہائشی اس اچانک دھماکے سے خوفزدہ ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے لکھا کہ آواز اتنی شدید تھی کہ گھروں تک میں لرزش محسوس ہوئی۔
اس سے پہلے 2013 میں روس کے شہر چیلیابنسک کے اوپر بھی ایک بڑا شہاب ثاقب گزرا تھا۔ گھر کے سائز کا وہ خلائی پتھر زمین سے تقریباً 14 میل اوپر فضا میں پھٹ گیا تھا، اور ناسا کے مطابق اس دھماکے کی طاقت 4 لاکھ 40 ہزار ٹن TNT کے برابر تھی۔
اس دھماکے سے تقریباً 200 مربع میل کے علاقے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے، اور ٹوٹے ہوئے شیشے کی وجہ سے 1,600 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
