ترکی کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی جمعرات کو توثیق کر دی ہے جس کے بعد مملکت پر یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران انقرہ کے لیے ریاض کو فوجی امداد بھیجنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ترک پارلیمنٹ میں یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں بھی ہوئی جب خطے کے ممالک امریکہ اور ایران کی جنگ میں نئی کشیدگی کے امکانات پر تشویش کا شکار ہیں، جس کے اثرات ممکنہ طور پر پڑوسی ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
گذشتہ جنگ کے دوران، ایران نے سعودی عرب سمیت امریکہ کے اتحادی خلیجی عرب ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔
اگست میں ہونے والے 16 شقوں پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کسی ایک پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کریں گے، خطرات کو روکنے اور فوجی تعاون بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں گے، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں گے اور دفاعی صنعت کے تعلقات مضبوط بنائیں گے۔
600 نشستوں والی ترک پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات کے باوجود اس معاہدے کو 119 کے مقابلے میں 279 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا، جن کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ ترکی کو علاقائی جنگوں میں الجھا سکتا ہے اور ترک فوجیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اپوزیشن نیو پارٹی کے قانون سازوں کے نائب رہنما مراد امیر کا کہنا تھا کہ ’وہ ترک فوجیوں کو یمن کے صحراؤں میں بھیجنے کے لیے یہ معاہدہ لائے ہیں۔‘
20 ویں صدی کے اوائل میں یمن کے تنازعات میں عثمانی فوجیوں کا جانی نقصان ترکوں کی ثقافتی یاد میں آج بھی نمایاں ہے۔
پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور صدر رجب طیب اردوغان کی حکمران جماعت کے رکن فواد اوکتائے نے کہا کہ ترکی کو ’اس کی مرضی کے خلاف کسی بے قابو عمل میں نہیں دھکیلا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ فوجیوں کی تعیناتی صرف مستقبل میں پارلیمانی منظوری سے ہی ممکن ہو گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ سعودی عرب کو فوجی امداد بھیجنے پر غور کر رہا ہے لیکن ان کا اصرار ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی ہے اور کسی بھی ترک فوجی کو یمن میں لڑنے یا حوثیوں پر حملہ کرنے کے لیے تعینات نہیں کیا جائے گا۔
تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت سے لیس ترک فوج نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہے۔ ترک فوجیوں کی کسی بھی تعیناتی کے لیے ترکی کی پارلیمنٹ سے الگ سے منظوری درکار ہو گی۔
ترک اور پاکستانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے کا ہدف ایران یا کوئی اور ملک نہیں ہے۔
اس معاہدے پر سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔ اسے امریکہ پر اپنا انحصار کم کرنے اور اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی سعودی عرب کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
