روس کے علاقے سائبیریا میں ارکتسک اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک لیبارٹری ورکر نامعلوم بیماری میں مبتلا ہونے کے محض چند دن بعد چل بسیں۔
اگرچہ میڈیا میں ممکنہ طاعون کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، لیکن روس کے کنزیومر ہیلتھ واچ ڈاگ نے اس بیماری کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہونے والا نمونیا قرار دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ موت کی باضابطہ وجہ کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اس لیے طاعون محض ایک ممکنہ وجہ ہے۔
اگرچہ یہ ایک افسوسناک موت اور اہم تحقیقات کا معاملہ ہے، لیکن یہ یقینی طور پر گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کی علامت ہے کہ سیاہ موت واپس آ گئی ہے۔ علاج کی دستیابی، فوری ٹیسٹنگ اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کا مطلب یہ ہے کہ آج طاعون کے حوالے سے صورت حال بالکل مختلف ہے۔
طاعون کا شبہ کیوں ہے؟
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ لیبارٹری ٹیکنیشن کی موت کی وجہ کیا تھی؟ لیکن چونکہ وہ جس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتی تھیں وہاں طاعون کے بیکٹیریا پر تحقیق کی جاتی ہے، اس لیے صحت کے حکام کا طاعون کو بیماری کی ایک ممکنہ وجہ سمجھنا درست ہے۔
انہیں لاحق ہونے والی بیماری یعنی نمونیا کی ایک قسم، جس کا شکار ہونے کے محض چند روز بعد ان کی موت واقع ہو گئی، نیومونک طاعون کی علامات سے بھی ملتی جلتی ہے۔
بیماری کی یہ قسم پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، جو عام طور پر سانس کے ذریعے بیکٹیریا اندر جانے کے بعد ہوتا ہے اور یہ بیماری ایک یا دو دن کے اندر بڑھ سکتی ہے۔ علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور اکثر خون آلود بلغم (کھانسی کے ساتھ پھیپھڑوں سے آنے والا بلغم) شامل ہیں۔
لیکن نمونیا کا سبب بننے والے دیگر کئی انفیکشنز بھی اس سے ملتے جلتے ہو سکتے ہیں۔ صرف لیبارٹری ٹیسٹ ہی ان میں فرق کر سکتے ہیں۔ صحت کے حکام معمول کے مطابق طاعون کے کیسز کو مشتبہ، ممکنہ یا مصدقہ کے طور پر درجہ بند کرتے ہیں، اس لیے اس ابتدائی مرحلے میں ’مشتبہ‘ ایک معمول کی درجہ بندی ہے۔
کیا ہوا ہو گا؟
ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ لیبارٹری ورکر کیسے بیمار ہوئیں اور قیاس آرائیوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ حکام نے سیمپل ٹیوب ٹوٹنے کی ابتدائی میڈیا رپورٹس کی تردید کر دی ہے۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لیبارٹری سے لگنے والے انفیکشنز شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں لیکن ان کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے اور وہ عموماً ایک جیسے رجحانات ظاہر کرتے ہیں۔
لیبارٹری سے لگنے والے طاعون کا آخری دستاویزی کیس 2009 میں شکاگو میں سامنے آیا تھا۔ روس کے واقعے کی طرح، وہ محقق بھی بیمار پڑنے کے چند روز کے اندر چل بسا تھا۔
ان کے کیس میں طاعون کا سبب بننے والے بیکٹیریا ’یرسینیا پیسٹس‘ کی تصدیق ہوئی تھی لیکن تفتیش کار یہ معلوم نہیں کر سکے تھے کہ وہ کیسے متاثر ہوئے۔ اگر واقعی طاعون کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ معلوم کرنا بھی مشکل ثابت ہو سکتا ہے کہ روس میں لیبارٹری ورکر کیسے متاثر ہوئیں؟
سانس کے ذریعے پھیلنے والے جراثیم، جیسے کہ نیومونک طاعون، کے لیے ایک لیبارٹری میں منتقلی کے کئی ممکنہ راستے ہوتے ہیں۔ بنیادی خطرہ ان چھوٹے قطروں کو سانس کے ذریعے اندر لے جانا ہے جو کسی ٹیوب کے ٹوٹنے، سیمپل کے چھلکنے یا بائیو سیفٹی کے معمول کے ضوابط سے ہٹ کر کلچر کو سنبھالنے کی صورت میں خارج ہو سکتے ہیں۔ سوئی چبھنے کے زخم اور آنکھوں میں چھینٹیں پڑنا دیگر راستے ہیں۔
خطرناک جراثیم کو سنبھالنے والی لیبارٹریاں خصوصی طور پر تیار کردہ سہولیات، حفاظتی آلات اور سخت حفاظتی ضوابط کا استعمال کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات حادثات کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن وہ اس خطرے کو کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
اس وقت کیا کیا جا رہا ہے؟
حکام نے لگ بھگ 200 ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جن کا لیبارٹری ورکر کے بیمار ہونے کے بعد ان سے رابطہ رہا تھا۔ احتیاطی تدبیر کے طور پر وہ اس وقت طبی نگرانی میں ہیں۔
پھیلاؤ کو روکنا ایک مسلمہ طریقہ کار ہے جو متعدی بیماریوں کی کئی وباؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں کیسز کو الگ کرنا اور ان کا علاج کرنا، قریبی رابطوں کی نشاندہی کرنا اور ان سے رابطے میں رہنا، جہاں ضروری ہو وہاں حفاظتی اینٹی بائیوٹکس فراہم کرنا اور ضرورت پڑنے پر قرنطینہ کرنا شامل ہے۔
رابطے میں رہنے والوں کی فوری نگرانی کا مطلب یہ ہے کہ بیمار ہونے والے کسی بھی شخص کو جلد الگ کر کے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے، قطع نظر اس کے کہ بیماری کی وجہ کیا نکلتی ہے۔
کیا آج کا طاعون بلیک ڈیتھ سے مختلف ہے؟
جب ہم طاعون کے بارے میں سوچتے ہیں تو عموماً ہمارا دھیان بلیک ڈیتھ کی طرف جاتا ہے. خوفناک ماسک پہنے طاعون کے ڈراؤنے ڈاکٹر اور بستر پر تکلیف دہ گلٹیوں میں مبتلا قرون وسطیٰ کے بے بس لوگ۔ بلیک ڈیتھ نے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی جان لی، لیکن آج کی صورت حال بہت مختلف ہے۔
ہمارے پاس اینٹی بائیوٹکس، لیبارٹری ٹیسٹ اور نگرانی کے مضبوط نظام موجود ہیں جو طاعون کو قرون وسطیٰ کے دور کے مقابلے میں صحت عامہ کے لیے بہت کم خطرہ بناتے ہیں۔
طاعون اب بھی وہاں پنپتا ہے جہاں لوگ پسوؤں والے جانوروں کے قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ بہتر رہائش، صفائی ستھرائی اور چوہوں کی روک تھام طاعون سے متاثرہ پسوؤں سے ہمارا واسطہ کم کرتی ہے اور یوں ہمارے پسو کے کاٹنے اور بیوبونک طاعون کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
جن جگہوں پر طاعون قدرتی طور پر پایا جاتا ہے، وہاں اچھی صفائی اور بیمار، مردہ یا شکار کیے گئے جنگلی جانوروں کو احتیاط سے سنبھالنے سے بھی انفیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
بیوبونک طاعون کے کیسز اکا دکا سامنے آتے ہیں اور یہ شاذ و نادر ہی لوگوں کے درمیان پھیلتا ہے۔ عام طور پر، دنیا بھر میں ہر سال چند سو کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مڈغاسکر اور ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں ہوتے ہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں امریکہ، چین، منگولیا اور پیرو میں بھی کیسز باقاعدگی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نیومونک طاعون بہت کم پایا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب بیکٹیریا سانس کے ذریعے اندر چلے جائیں یا جب بغیر علاج کے بیوبونک طاعون پھیپھڑوں تک پھیل جائے۔ یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے عام طور پر کسی ایسے شخص سے قریبی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے جو پہلے ہی بیمار ہو۔
طاعون سے مرنے والے مریضوں کا تناسب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا علاج جلد مل گیا تھا یا نہیں۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں، بیوبونک طاعون سے اندازاً 30 سے 60 فیصد مریضوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ تاہم علاج کے بغیر نیومونک طاعون اس کا شکار ہونے والے تقریباً 100 فیصد لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ طاعون کا مؤثر علاج ان اینٹی بائیوٹکس سے کیا جا سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں۔ حالیہ جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ اگر علاج کیا جائے تو بیوبونک یا نیومونک طاعون کا شکار ہونے والے چھ میں سے صرف ایک شخص کی موت اس انفیکشن سے ہو گی۔
لیکن یہ انتہائی اہم ہے کہ طاعون کی علامات کو جلد پہچانا جائے۔ نیومونک طاعون کی ابتدائی علامات جیسے بخار، سر درد، کمزوری اور کھانسی کئی دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ مقامی خطوں سے باہر زیادہ تر ڈاکٹروں نے کبھی اس کا کوئی کیس نہیں دیکھا ہو گا، اس پر شک کرنا تو دور کی بات ہے۔ انفیکشن، شبہ اور علاج کے درمیان تاخیر کو کم کرنا کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگاہی اور فوری ٹیسٹنگ اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شاید اس کا شکار ہوئے ہوں۔
سائبیریا میں سامنے آنے والے اس واحد مشتبہ کیس سے عوام کو لاحق خطرہ بہت کم ہے، روس کے اندر اور اس سے باہر دونوں جگہوں پر۔ اب اہم بات یہ ہے کہ آیا زیر نگرانی لوگوں میں سے کوئی بیمار پڑتا ہے؟ کیا لیبارٹری کے نتائج طاعون کی تصدیق کرتے ہیں اور کیا تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لیبارٹری ورکر کیسے متاثر ہوئیں؟
اس سے پہلے یہ سٹوری دا کنورسیشن پر شائع ہو چکی ہے۔
